خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 352

خطبات محمود ۳۵۲ سال ۱۹۳۰ء تقریر کی اور لوگوں کو کہا کہ تمہارے گھروں میں کھانے کو موجود ہے اس لئے تمہیں کوئی فکر نہیں لیکن ان بیواؤں اور مفلوک الحال لوگوں کا خیال کرو جو مزدوری کر کے وقت کے کھانے کی ضروریات اسی وقت خریدتے ہیں ان کو کس قدر تکلیف ہو رہی ہے اس لئے جاؤ اور ہڑتال کھول دو تا وہ بھوکوں نہ مریں اور اس قدر جرآت اور دلیری کی وجہ صرف یہی تھی کہ احمدیوں میں حریت کی روح ہے۔ہم اپنی جماعت کو بتاتے ہیں کہ جان و مال کوئی چیز نہیں تمہارے انعامات اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں اس لئے اس کی خاطر ہر ایک قربانی کرنے سے دریغ نہ کرو۔پس ایسے افسروں کو یا د رکھنا چاہئے کہ احمدی خوشامد ہر گز نہیں کریں گے اور اگر ایسا کوئی کرے گا تو میں اسے سخت سزا دوں گا کیونکہ وہ قوم کی ناک کاٹنے والا ہوگا۔اور نہ ہی احمدی ناجائز فوائد کے حصول میں مدد دیں گے بلکہ روک ہوں گے اور اگر مجھے پتہ لگ گیا کہ کوئی احمدی ایسا کرتا ہے تو میں اسے سخت سزا دوں گا اس لئے ان باتوں کی امید رکھنے والے پولیس افسر جس قدر جلد ممکن ہو ان امیدوں کو قطع کر دیں۔ان کی امیدیں ایک دو کو ڈرانے سے حاصل نہیں ہو سکتیں۔ضمانت کیا چیز ہے اگر کسی کو پھانسی کی سزا بھی دی جائے اور وہ بُزدلی دکھائے تو ہم اسے ہرگز منہ نہیں لگائیں گے بلکہ میں تو اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھوں گا۔لیکن اگر کسی سے برداشت نہ ہو سکے اور دوسرے کے جوش دلانے پر وہ ضبط نہ کر سکے تو وہ ہرگز جھوٹ نہ بولے اور صاف کہہ دے کہ میں نے مارا ہے۔ایسا کرنے والا بے شک ہمارا بھائی ہے اور ہم اسے اپنا شریک حال سمجھیں گے اور اس کا اعتراف قصور ہی اس کے لئے کفارہ ہو جائے گا لیکن اگر کوئی پھانسی سے ڈر کر بھی بُو دلی کا اظہار کرتا ہے تو اس سے ہما را قطعا کوئی تعلق نہ ہو گا۔میں امید کرتا ہوں کہ ہر احمدی ایسا ہی ثابت ہو گا اور پولیس افسر دیکھ لیں گے کہ ان کے ڈراوے احمدیوں کو ہرگز مرعوب نہیں کر سکتے۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا آئے گا اور اگر ان کے اندر یہ جرآت ہے کہ دس لاکھ احمد یوں کو قید میں ڈال دیں اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ گورنمنٹ اتنی بڑی جماعت کو جو بغیر لالچ اور اغراض کے اس کی وفاداری کر رہی ہے وفاداری کے مقام سے ہٹانا پسند کرے گی تو وہ جو چاہیں کر کے دیکھ لیں۔گورنمنٹ اِس وقت خیر خواہوں کی سخت محتاج ہے اور ابھی تھوڑے دنوں میں وہ اور بھی محتاج ہو گی۔ہم نے ہمیشہ حکومت کی وفاداری کی ہے اور ہمیشہ اس کے شریک حال رہے ہیں۔اگر چہ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ