خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 31

خطبات محمود ٣١ سال ۱۹۲۹ء خدا تعالیٰ کا رسول نہیں مانتے مسلمان ان کے فعل کو جائز خیال کرتے ؟ قطعا نہیں یقینا ہم بھی اور دوسرے مسلمان بھی اسے رسول کریم ﷺ کی بہتک سمجھتے کیونکہ ہندو اس طرح رسول کریم ہے کے متعلق طنز کرتے اور ہم سب سے زیادہ اس کو محسوس کرتے کیونکہ ہم ہی سب سے زیادہ اور بچے رسول کریم ﷺ کے عاشق ہیں۔پس کوئی بات خواہ وہ صحیح ہو جیسا کہ یہ صحیح ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبوت کا دعویٰ کیا۔اسے طنز کے طور پر پیش کرنا یقینا دل آزاری ہے اگر انقلاب میں روزانہ دو تین صفحے بلکہ سارا ہی اخبار اس قسم کے مضامین سے بھرا ہوا ہو کہ مرزا صاحب نے نبوت کا جو دعویٰ کیا ہے وہ صحیح نہیں اور دلائل کے ساتھ اس پر بحث کی جائے تو ہم بُرا نہیں منائیں گے کیونکہ یہ غیر احمدیوں کا حق ہے کہ جس بات کو وہ درست نہیں سمجھتے اس کی تردید کریں۔لیکن بطور طعن اور تشنیع اور بطور تحقیر اور تذلیل ایک فقرہ بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے۔اور اگر تعلیم یافتہ طبقہ کا پرچہ اور اس کے تعلیم یافتہ ایڈیٹر ہمارے مذہبی جذبات اور احساسات کا خیال نہیں کر سکتے اور یہ نہیں سمجھ سکتے کہ ایک مذہبی جماعت سے بلا وجہ تمسخر اور استہزاء کرنا بُری بات ہے تو ان کا مسلمانوں کو اتحاد اور اتفاق کی تعلیم دینا اور اس کے متعلق مضامین شائع کرنا ایک فضول بات ہے۔ہم نے مسلمانوں کے اتحاد کے لئے قربانی کی ہے اور ہر رنگ میں اس کے لئے امداد دی ہے۔مسلمانوں کے کونسلوں وغیرہ کے انتخاب میں ہم نے اپنے دوستوں کے تعلقات کی کوئی پرواہ نہ کی اور ان کو چھوڑ کر دوسروں کی امداد کی جبکہ یہ سمجھا کہ ان کا منتخب ہونا مسلمانوں کے فوائد کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ہم نے اپنے عزیزوں کو ان کے لئے چھوڑا اُن سے جھگڑے کئے محض اس لئے کہ مسلمانوں کو کونسل میں زیادہ طاقت حاصل ہوا اور منتخب ہونے والے اچھا کام کریں گے۔پھر ہم نے ہر اس موقع پر جہاں رسول کریم نے کی ہتک کی گئی دوسروں سے آگے بڑھ کر کام کیا یہ ہمارا کسی پر احسان نہیں تھا بلکہ ایسا کرنا ہمارا فرض تھا مگر ہم نے اپنا فرض ہی ادا نہیں کیا بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی بیدار کیا اور ان کی جگہ کام کیا۔ملکانوں کے ارتداد کے وقت ہم نے ان کو بچانے کے لئے کام کیا۔مرتد ہونے والے احمدی نہ تھے بلکہ حنفی تھیے اس وقت ہم کہہ سکتے تھے حنفی مذہب ایسا خراب ہو چکا ہے کہ اس کے ماننے والے ہزاروں مرتد ہو رہے ہیں مگر ہم نے ایسا نہ کیا بلکہ سب سے پہلے ملکانوں کے پاس گئے اور وہاں جا کر آریوں کو ایسی شکست دی کہ خود آریوں نے اس کا اعتراف کیا۔اسی طرح