خطبات محمود (جلد 12) — Page 314
۳۱۴ سال ۱۹۳۰ مصائب اور مشکلات کا سامنا ہوتا ہے مگر نام دونوں کے لئے الگ الگ رکھ دیئے گئے۔کافر کی تکالیف کا نام عذاب اور مؤمن کی تکالیف کا ابتلاء رکھ دیا گیا۔پھر مقصد بھی ایک ہی ہے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ غافل لوگ بیدار ہوں اور جو بیدار ہو چکے ہیں وہ اور ترقی کریں۔مگر بعض ان عذابوں اور اجتلاؤں سے ترقی کرنے کی بجائے ٹھو کر کھاتے اور اپنی اپنی حالت کے مطابق اور پیچھے جا پڑتے ہیں۔مؤمن تو فائدہ اٹھاتا ہے لیکن جس کے ایمان میں خلل ہو وہ ٹھوکر کھا جاتا ہے۔مولانا روم نے اپنی مثنوی میں ایک روایت لکھی ہے بلحاظ روایت تو اس کی صحت کے متعلق میں کچھ نہیں کہ سکتا لیکن سبق حاصل کرنے کے لئے بہت مفید ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ حضرت لقمان کو بچپن میں کوئی شخص اٹھا کر لے گیا اور کسی تاجر کے پاس فروخت کر دیا آپ اس تاجر کے پاس رہنے لگے۔آپ کی لیاقت اور ذہانت کو دیکھ کر وہ تا خبر آپ سے بے حد محبت کرتا اور آپ کو اپنے بچوں کی طرح رکھتا حتی کہ آپ کے بغیر کوئی چیز نہ کھاتا اور جب کچھ کھانے لگتا تو ان کو بھی شریک کر لیتا۔ایک دفعہ اس کے ایک گماشتہ نے کسی دُور دراز علاقہ سے اس کے لئے بے موسم کا خربوزہ بھیجا۔تاجر نے اس کی ایک قاش کاٹ کر حضرت لقمان کو دی آپ نے اسے نہایت مزے سے کھایا۔تاجر سمجھا بہت مزیدار ہے اس لئے اس نے ایک اور قاش دی وہ بھی انہوں نے اسی طرح مزے سے کھائی۔اس پر اس کی طبیعت بھی چاہی کہ ایسا مزیدار خربوزہ خود بھی کھائے اور ایک قاش کاٹ کر اس نے اپنے منہ میں ڈالی مگر اسے معلوم ہوا کہ خربوزہ سخت کڑوا ہے اس پر وہ حضرت لقمان سے ناراض ہوا کہ میں تو تمہارے مزے کی خاطر تمہیں دے رہا تھا اگر کڑوا تھا تو تم نے مجھے بتا کیوں نہ دیا یا اپنے چہرہ سے اس کی کڑواہٹ کا اظہار کیوں نہ کیا۔حضرت لقمان نے جواب دیا جس ہاتھ سے میں اتنی میٹھی چیزیں کھا چکا ہوں اس سے ایک کڑوی ملنے پر میں اس قدر احسان فرموش کیوں بنتا کہ منہ بنانے لگتا۔مؤمن کا کام ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے زجر ہو تو بھی اپنے ایمان کو متزلزل نہ ہونے دے کیونکہ قرآن شریف میں منافق کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ جب تک اسے ہم نعمتیں دیتے جائیں وہ خوش رہتا ہے لیکن جب ہاتھ روک لیں ناراض ہو جاتا ہے۔ہے مگر مؤمن ابتلاء میں ثابت قدم رہتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ کا ایک عبرت انگریز واقعہ ہے آپ جنگ تبوک کیلئے نکلے بعض لوگ پیچھے رہ گئے۔آپ ان پر ناراض ہوئے اور حکم دیا ان سے کوئی |