خطبات محمود (جلد 12) — Page 29
خطبات محمود ۲۹ سال ۱۹۲۹ء ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عقیدہ کے اختلاف کی وجہ سے دوسروں کی تحقیر کی جائے۔ہم میں اور دوسرے مسلمانوں میں عقائد کا اختلاف ہے اگر ہم ان کے متعلق یہ امید رکھیں کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ نہ مانیں تب ہم ان کے ساتھ مل کر متحدہ سیاسی امور میں کام کر سکتے ہیں تو یہ ہماری غلطی ہوگی اسی طرح اگر وہ ہم سے یہ امید رکھیں کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ مانیں اور پھر وہ ہم سے ملیں تو یہ غلط ہوگا۔لیکن اگر غیر احمدی ہماری نسبت یہ کہیں کہ یہ لوگ ٹھگ اور فریبی ہیں مذہب کو انہوں نے دینا کمانے کی آڑ بنایا ہوا ہے تو پھر یہ اختلاف عقائد تک بات محدود نہ رہے گا بلکہ گالیاں ہونگی یا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہیں کہ انہوں نے فریب اور دھوکا کیا تو یہ ایسی بات نہیں جو برداشت کی جا سکے۔سیاسی فوائد خواہ کتنے ہی بڑے ہوں آخر محدود ہوتے ہیں۔سیاسی اتحاد کا یہی نتیجہ ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو کچھ نوکریاں پہلے کی نسبت زیادہ مل جائیں ان کے سیاسی حقوق محفوظ ہو جائیں مگر کوئی غیرت مند انسان مذہب کو قربان کر کے یہ باتیں حاصل کرنے کے لئے تیار نہ ہو گا۔غرض طعن و تشنیع اور تحقیر و تذلیل کرنے کے ساتھ یہ امید رکھنا کہ اتحاد ہو جائے ایک ایسی امید ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی اور نہ مذہب کو عزیز رکھنے والا کوئی انسان ایسی صلح میں شریک ہو سکتا ہے۔اس وقت میں جو خطبہ پڑھ رہا ہوں اس کے پڑھنے کی وجہ گل سے پیدا ہوئی تھی اول تو میرا خیال تھا کہ میں قادیان جا کر خطبہ پڑھوں کیونکہ وہی سلسلہ کا مرکز ہے۔لیکن رات کو سخت سردی کی وجہ سے کمر میں درد ہو گیا اس لئے میں قادیان نہ جا سکا۔پھر ارادہ کیا اگلے جمعہ قادیان جا کر پڑھوں گا مگر اس قدر تعویق مناسب نہ سمجھی اور یہاں ہی پڑھنے کا ارادہ کر لیا۔اس خطبہ کا محرک ایک عنوان ہے جو ایک ایسے اخبار میں جو اپنے آپ کو صلح گل کہتا اور مسلمانوں کو اتحاد کی ضرورت کی طرف توجہ دلاتا رہتا ہے اور اس بات پر بڑا زور دیتا ہے کہ تمام فرقوں کے مسلمان اپنے آپ کو صرف مسلمان کہیں تا کہ متحد ہو سکیں اور وہ انقلاب اخبار ہے۔اس میں افغانستان کے متعلق ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ کابل میں بغاوت ہو گئی ہے ایک شخص جسے سقہ کا بچہ کہا جاتا ہے بعض کہتے ہیں وہ سقہ کا بچہ نہیں بلکہ جرنیل کا لڑکا ہے ایک لڑائی کے موقع پر جب پانی ختم ہو گیا تو اس افسر نے خود مشک اٹھائی اور پانی لایا تھا۔اس پر امیر حبیب اللہ خاں اسے پیار کے طور پر بچہ سقہ کہا کرتا تھا اس وجہ سے اس خاندان کا نام ہی بچہ سقہ ہو گیا وہ کوئی ہو بہر حال اس