خطبات محمود (جلد 12) — Page 140
خطبات محمود ۱۴۰ ۱۹ سال ۱۹۲۹ء خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرو فرموده ۱۲۔جولائی ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر کشمیر ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث ہو کر ظاہری لحاظ سے انسان پہلے سے زیادہ مشکلات میں مبتلاء ہو جاتا ہے اور اس نکتہ کے نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے لوگ حق سے محروم رہ جاتے ہیں اور منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکتے۔عام طور پر لوگ دعائیں کرتے ہیں تو اس رنگ میں کہ خدایا! ہمارے سب نقصوں کو دور کر دے اور ہمارے اندر خوبیاں پیدا کر دے اور قدرتی طور پر یہی بات کہنی بھی چاہئے کیونکہ جب تک بیماری دور نہ ہو صحت نہیں ہو سکتی۔پس جب لوگ دعا کرتے ہیں تو پہلے عیب کے مٹ جانے کی اور پھر خوبی کے پیدا ہونے کی کرتے ہیں۔لیکن سورۃ فاتحہ ہم اس کے خلاف بات پاتے ہیں۔بظاہر پہلے کمالات کے حصول کی دعا ہے اور پھر یہ دعا ہے کہ ہم مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ یا ضالین نہ ہو جائیں۔حالانکہ عام قاعدہ کی رو سے یہ چاہئے تھا کہ دعا اس طرح ہوتی کہ ہم مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ اور ضالین ہونے سے بچیں اور مُنْعَمُ عَلیشہ گروہ میں داخل ہوں کیونکہ انعام بعد میں ہو سکتا ہے پہلے نقائص کا دور ہونا ضروری ہے۔یوں بھی جب ہم دنیا کی باقی چیزوں پر غور کرتے ہیں تو یہی پاتے ہیں۔انسان ہی کو لو پہلے بچہ ہوتا ہے پھر جوان ہو جاتا ہے پہلے کمزور حالت ہوتی ہے پھر طاقت آ جاتی ہے۔مگر سورۃ فاتحہ میں اس عام قاعدہ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔ایسا کیوں کیا گیا ؟ خدا تعالیٰ کا کلام تو اس کے فعل