خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 116

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء جماعت کے لوگ عزت پاتے ہیں اور یا پھر ہماری مخالفت کرنے والے۔آج دیکھ لو بعض وہ مولوی جنہیں کوئی جانتا تک نہ تھا آج بڑے بڑے علماء میں شمار ہوتے ہیں محض اس وجہ سے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت جی بھر کر کی۔مولوی ثناء اللہ صاحب اگر آپ کی مخالفت نہ کرتے تو اتنی شہرت نہ حاصل کر سکتے۔اب اگر کوئی کہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کر کے انہیں حقیقی عزت ملی تو وہ نادان ہے۔انہیں جو عزت ملی ہے اسے وہ خود بھی اچھی طرح محسوس کرتے ہیں۔چاہے وہ زبان سے اقرار کریں یا نہ کریں۔جب وہ اس انسان کی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں جس کے متعلق وہ کہتے تھے کہ ہم اسے مٹا ڈالیں گے اور برباد کر دیں گے تو کس قدر سوزش ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہوگی۔پھر میرے مخالفوں کو ہی دیکھ لو خواہ لاہور والے ہوں یا قادیان والے۔مجھ پر انہوں نے خطرناک سے خطرناک افترا کئے بے حد جھوٹ باندھے مگر کیا میرے ہاتھ پر بیعت کر نیوالوں کی تعداد کم ہو گئی یا زیادہ ؟ اس مخالفت کے باوجود میری ترقی کیا ان کے لئے سزا نہیں ؟ خصوصاً پچھلے سال سے جب کہ مخالفت پورے زور کے ساتھ شروع کی گئی۔اس سال میں اس قدر تعلیم یافتہ اور معززین نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے کہ ان کی تعداد پچھلے چار سال کی تعداد سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔تعداد تو شائد اتنی ہی ہو جتنی گذشتہ سالوں میں رہی لیکن قابلیت اور رتبہ کے لحاظ سے اس سال کی تعداد زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ مجھ میں کوئی عیب مطلقا ہے نہیں لیکن یہ لوگ جتنا میرے خلاف زور لگاتے ہیں خدا تعالیٰ مجھے اتنی ہی زیادہ ترقی دیتا ہے۔ان کی غرض تو اس تمام فتنہ خیزی سے یہ ہے کہ لوگ مجھے چھوڑ دیں لیکن کیا یہ تعجب نہیں کہ اگر ان کی کوشش سے کوئی ایک نکلا ہے تو اس سے بہت زیادہ بہتر سو (۱۰۰) کو خدا تعالیٰ نے جماعت میں داخل کر دیا ہے۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ترقی کے ذرائع ہی اصل عزت کی چیز ہیں۔ایک دفعہ ایک فتنہ پیدا کرنے والی بات کے متعلق مجھے بہت افسوس ہوا۔اس پر میں نے کہا کہ آج میں چار پائی پر نہیں سوؤں گا بلکہ زمین پر ہی رات گزاروں گا۔رات کو خواب میں میں نے رحمت الہی کو عورت کی صورت میں متمثل محمدہ دیکھا جو ماں کی سی محبت کے ساتھ پتلی سی چھڑی سے مجھے مار کر کہہ رہی تھی اُٹھ چار پائی پر سو۔مجھے اس قدر سرور ہوا کہ میں لیٹے لیٹے ہی گود کر چار پائی پر چلا گیا اور میں نے محسوس کیا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہے