خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 100

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ اس میں بھی ضرور حصہ لیں گے۔ہم جسے نیک کام سمجھتے ہیں اس میں حصہ لینے کے لئے بخوشی تیار ہیں۔میں امید کرتا ہوں مذہب سے دلچسپی رکھنے اور خدا کے دین کو دنیا میں قائم کرنے والے خواہ وہ ہندو ہوں یا سکھ یا ہماری طرح مسلمان سب مل کر کوشش کریں گے کہ ان فسادات کو دور کیا جائے اور فتنہ کو مٹایا جائے جن بزرگوں کا ادب و احترام ضروری ہے ان کا مناسب احترام کیا جائے اور جو باتیں قوموں کے اخلاق بگاڑنے کا موجب ہوں ان کی پورے زور سے مذمت کی جائے۔گورنمنٹ کو بھی نصیحت کرتا ہوں گو معلوم نہیں وہ اسے قبول کرے گی یا نہیں یا اس پر کیا اثر ہو گا مگر میں اپنا فرض ادا کرتا ہو ا کہتا ہوں گورنمنٹ بھی عاجلہ کو چھوڑ دے۔اسی طرح لیڈروں سے بھی یہی کہتا ہوں کہ وہ بھی عاجلہ کو چھوڑ دیں۔قوموں کے معاملات دنوں میں طے نہیں ہوا کرتے۔جولوگ اس خیال سے کہ حکومت جلد مل جائے ملک میں بغاوت کراتے ہیں وہ دیانت اور نیکی کی جڑ کو کاٹنے والے ہیں اور تینتیس کروڑ انسانوں کے قاتل ہیں۔اگر وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی عزت کریں تو صحیح راستہ اختیار کریں فریب سے عزت نہیں کرائی جاسکتی۔دنیا آخر صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتی ہے اور ملامت کے قابل کی ملامت اور عزت کے مستحق کی عزت کرتی ہے۔(الفضل ۱۹۔اپریل ۱۹۲۹ء) ا الدهر : ۲۸ المنفقون: ۹ بخاری کتاب التفسير باب قوله يقولون لمن رجعنا الى المدينة۔۔۔۔۔ع أسد الغابة في معرفة الصحابة جلد اصفحہ ۳۹۱٬۳۹۰ مطبوعہ بیروت ۱۳۸۴ھ ۵ بخاری کتاب بدء الخلق باب وفاة موسى ذكره بعد