خطبات محمود (جلد 12) — Page 6
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء دیں اسے دونوں فریق منظور کر لیں اور ساتھ ہی میں نے اپنی طرف سے اس کی منظوری کا بھی اعلان کر دیا تھا۔لیکن چونکہ مجھے خطرہ تھا کہ شاید مولوی محمد علی صاحب اس خیال سے کہ اگر اپنے ہی آدمیوں نے ہمارے خلاف فیصلہ کر دیا تو اس کا اثر بہت بُرا ہو گا اس تجویز کو منظور نہ کریں اس لئے میں نے دوسری تجویز یہ پیش کی تھی کہ اگر مولوی محمد علی صاحب کو یہ بورڈ منظور نہ ہو تو دوسرے لوگوں میں سے دو اصحاب لے لئے جائیں اور مثال کے طور پر میں نے سر عبد القادر صاحب اور ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے نام پیش کئے تھے۔میرے اس خطبہ کے جواب میں باوجود دوبارہ ایک خطبہ میں یاد دہانی کرانے کے بھی مولوی محمد علی صاحب نے کچھ نہیں کہا لیکن ایک اور غیر احمدی صاحب جو ہمارے صوبہ میں خاص امتیاز رکھتے ہیں ان کے ذریعہ سے ایک اور تحریک ہو گئی اور وہ اس طرح کہ مولوی محمد علی صاحب نے ان سے بیان کیا تھا کہ میرے خلاف جو پرو پیگنڈا ہوا ہے اس میں انہوں نے کوئی حصہ نہیں لیا۔اس پر میں نے مولوی صاحب کا ایک مضمون انہیں بھیجوایا اور انہیں لکھا کہ وہ مولوی صاحب سے دریافت کریں کہ آیا ان کے اس مضمون کو معقول کہا جا سکتا ہے؟ جب انہوں نے مولوی صاحب کو اس کے متعلق ذکر کرنے کے لئے بلوایا تو مولوی صاحب نے انہیں یہ جواب دیا کہ میں اُس وقت تک اس کا کوئی جواب نہیں دوں گا جب تک آپ پورا پورا فیصلہ کرنے کے لئے تیار نہ ہوں اور کوئی اور شخص بھی اس کام میں آپ کے ساتھ نہ ہو۔انہوں نے مولوی صاحب کے اس جواب سے مجھے اطلاع دی اور ساتھ ہی لکھا کہ میرے لئے یہ کام مناسب نہ ہوگا اور نیم سرکاری حیثیت رکھنے کے سبب سے میں اسے سرانجام نہ دے سکوں گا۔لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد خود ہی انہوں نے یہ تحریک کی کہ بجائے انتظار کرنے کے اور دو آدمیوں کو مقرر کرنے کے بہتر ہوگا کہ ایک ہی دیانتدار شخص کو مقرر کر دیا جائے جو وقت دے سکے اور اپنی طرف سے انہوں نے آغا محمد صفدر صاحب سیالکوٹی کا نام پیش کیا جو ان دنوں لاہور میونسپلٹی میں کام کرتے ہیں اور خلافتیوں کے مشہور لیڈر رہ چکے ہیں اور لکھا کہ اگر دونوں فریق اس معاملہ کو ان پر چھوڑ دیں تو کوئی حرج کی بات نہیں کیونکہ وہ ایک دیانت دار آدمی ہیں۔آغا محمد صفدر صاحب بوجہ خلافتی لیڈ ر ہونے کے سخت عدم تعاونی رہے ہیں اور اس سلسلہ میں انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں بھی کیں، قید بھی ہوئے اور کئی ایک دیگر مصائب برداشت کئے۔اور چونکہ ہم نے شدت سے اس تحریک کی مخالفت کی تھی اور پورے زور کے