خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 71

خطبات محمود <1 سال ۱۹۲۹ء زمانوں میں مختلف اثر دکھاتی ہیں۔جیسے یہ صیح ہے کہ بعض بیماریاں جو پہلے نہیں تھیں وہ اب پیدا ہو گئی ہیں اسی طرح یہ بھی صحیح ہے کہ آب و ہوا کے ایک لمبے عرصہ کے اثر کے ماتحت یا جسم انسانی میں بعض مخفی ترقیات کی وجہ سے بعض دوائیوں میں وہ اثر بھی نہیں رہا جو پہلے تھا۔جس طرح یہ سلسلہ ظاہر میں نظر آتا ہے اسی طرح باطن میں بھی ہے۔جس طرح ظاہری امراض کے علاج میں تغیر ہوتا رہتا ہے اسی طرح باطنی امراض کے لئے بھی ہر زمانہ کیلئے علیحدہ علاج ہیں۔تمام انبیاء کی غرض تو ایک ہی ہوتی ہے یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ تک اس کے بندوں کو پہنچائیں اور اس کے مقرب بنا ئیں۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ظاہر ہوتے ہیں تو اور ہی رنگ میں اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہیں۔باتیں تو وہی بیان کرتے ہیں جو رسول کریم نے بیان کیں لیکن وہ اپنے زمانہ کی زبان میں بولتے ہیں۔وہ فطرت کے میلانوں کو اپیل کرتے ہیں۔وہ اپنی قوم کے باریک قومی جذبات کے ذریعہ لوگوں کو اپنی طرف نہیں کھینچتے بلکہ کہتے ہیں وہ خداوند خدا جو بجلیوں سے ظاہر ہوتا ہے گویا اسے مادی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔وہ اسے بجلیوں، آندھیوں اور طوفانوں میں دکھاتے ہیں لیکن حضرت داؤڈ اور حضرت سلیمان کے زمانہ میں انہی باتوں کو اور طرز میں پیش کیا جاتا ہے۔وہ بھی لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں لیکن حضرت موسیٰ کی زبان میں نہیں کیونکہ ان لوگوں کے لئے اور زبان کی ضرورت تھی۔اس کے بعد حضرت عیسی" کا زمانہ آتا ہے۔تو بات ہی بدل جاتی ہے جہاں خدا تعالیٰ کو بجلیوں اور آندھیوں میں دکھایا جاتا تھا وہاں اب اسے محبت کے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے وہ ہمیں پیار کرتا ہے، ہماری مصیبتوں پر کڑھتا ہے۔گویا حضرت عیسی اسے بجلیوں میں نہیں بلکہ ماں کے پستانوں اور اس کی شفقت آمیز تھپکیوں میں ظاہر کرتے ہیں۔یہاں بھی بات تو وہی ہے کہ خدا کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے لیکن زبان بدل گئی چیز میں کوئی فرق نہیں آیا۔لیکن اس کے لئے جو ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں ان میں فرق آ گیا۔ان سب کے بعد رسول کریم نے ظاہر ہوتے ہیں۔اس وقت انسانی دماغ کمالات کی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے وہ مختلف زمانوں میں سے گذرتے ہوئے رُشد حاصل کر لیتا ہے، جوانی کو پہنچ جاتا ہے بچپن کی کیفیات پیچھے چھوڑ آتا ہے وہ اپنے اندر امتیاز کی طاقت پیدا کر لیتا ہے، اس کے پر کھنے کی طاقت مضبوط ہو جاتی ہے اس وقت طرز کلام بالکل بدل جاتا ہے۔اگر چہ اب بھی اسے باپ اور اس کی