خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 4

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء دنیا کی بہتری کا انحصار ہے لیکن اچانک اسے موت آجاتی ہے۔اُس وقت اسے خواہش ہوتی ہے کہ کاش مجھے ایک یا دو منٹ کی اچانک اور مہلت نہ سکے اور میں اپنی سکیم دوسروں کو بتا سکوں لیکن اُس وقت وہ اربوں روپیہ اپنی دولت و حکومت بلکہ تمام دنیا کی حکومتیں دے کر بھی ایک منٹ حاصل نہیں کر سکتا۔پس ہمیں خدا تعالیٰ کا بہت بہت شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں ایک بیش قیمت اور عظیم الشان سال دیا ہے۔کیوں دیا ہے؟ اس لئے کہ ہمیں یاد دلائے کہ ہمیں بھی تھوڑے دنوں کے بعد نئے انسان بننے کی ضرورت ہے۔اگر وقت بغیر سالوں، ہفتوں، دنوں، گھنٹوں، منتوں اور سیکنڈوں کے ایک غیر متبدل اور غیر متغیر حالت میں گذرتا چلا جاتا تو اس کے یہ معنے ہوتے کہ ہمارے لئے بھی کوئی تغیر نہیں اور نہ ہی ہمیں اپنے اندر کسی تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن ہمیشہ بدلنے والے سالوں، ہفتوں، دنوں، گھنٹوں، منٹوں اور سیکنڈوں سے ہمیں بتایا گیا۔کہ ہمیں بھی ان کے مطابق بدلتے اور متغیر ہوتے چلے جانا چاہئے۔صرف ایک ہستی ہے جس کے لئے کوئی وقت نہیں، زمانہ نہیں اس لئے اسے تبدیلی کی بھی ضرورت نہیں اور وہ صرف خدا کی ہستی ہے۔جس پر یہ زمانہ گذرتا ہے وہ تغیرات کا محتاج ہے اور جس پر وقت اثر انداز نہیں ہوتا وہ تغیرات کا بھی محتاج نہیں۔پس نیا سال ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں نئی جون اور نئی تبدیلی کی ضرورت ہے نئی ہمت نئی کوشش اور نئے جوش و استقلال کی ضرورت ہے۔جب تک ہم زمانہ کے تغیرات کے ساتھ نہ بدلیں ہم کسی ترقی کی امید نہیں رکھ سکتے۔جو قومیں ہر نئے تغیر کے ساتھ نئے ارادے نئی امنگیں، نئی خواہشیں اور نئی آرزو نہیں لے کر نہیں اُٹھتیں وہ تباہ ہو جاتی ہیں، برباد ہو جاتی ہیں اور مٹ جاتی ہیں اور وہی قو میں ترقی کرتی ہیں جو زمانہ کے تغیرات کے ساتھ برابر بڑھتی چلی جاتی ہیں۔میں نے نئے سال کے لئے ایک تفصیلی پروگرام جلسہ سالانہ کے موقع پر بیان کیا تھا۔اب تو وقت نہیں آئندہ جمعہ سے انشاء اللہ تعالیٰ میں اس کے ایک نہ ایک حصہ کو بیان کرنا شروع کروں گا اور فی الحال اس مختصر خطبہ کے ذریعہ جماعت کو تیاری کی طرف بلاتا ہوں کہ ہمیں ایک تغیر کی ضرورت ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک نیا سال دیا ہے۔الفضل ۱۸ جنوری ۱۹۲۹ء)