خطبات محمود (جلد 12) — Page 545
نطبات محمود ۵۴۵ سال ۱۹۳۰ء کے لئے بھی فاسعوا فرمایا یعنی دوڑ پڑو اور ایسا نہ ہو کہ پیچھے رہ جاؤ اور دوسرے آگے بڑھ جائیں۔تو ترقی کا ایک ذریعہ گویا یہ بتایا کہ سارے مسلمان جتھے کی صورت میں رہیں اور اس کے بنانے میں جلدی سے کام لیں کسی قسم کا وسوسہ ان کے قلوب میں پیدا نہ ہو۔یہاں میں ضمنا ان لوگوں کے خیال کی تردید بھی کر دیتا ہوں جو کہتے ہیں کہ جب مان لیا تو پھر بیعت کی کیا ضرورت ہے۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ یہاں یہ کیوں نہ فرما دیا کہ جب جمعہ کے لئے پکارا جائے تو گھر پر ہی نماز پڑھ لیا کرو۔فَاسْعَوْا إِلى ذِكْرِ الله سے کیوں فرمایا تو مان لینا ہی کافی نہیں بلکہ یہ حکم ہے کہ جہاں دوسرے مسلمان جاتے ہیں وہاں دوڑ کر جاؤ۔پس یہ خیال کہ مان لینے کے بعد بیعت کی کیا ضرورت ہے شیطانی وسوسہ ہے۔پھر دوسری چیز ترقی کے لئے یہ ہے کہ جمعہ میں اذان ہوتی ہے پھر ایک خطبہ ہوتا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا طریق ترقی کا تبلیغ ہے۔یعنی اگر اجتماع چاہتے ہو تو دو طرح سے تبلیغ کرو ایک اذان یعنی باہر کے لوگوں کو تبلیغ۔اور دوسرے خطبہ یعنی گھر والوں کی تعلیم۔دیکھو کس طرح اذان کے مختصر الفاظ میں ہی وہ سارے مسائل جمع کر دیے ہیں جن کی طرف اسلام بلا تا ہے۔تو حید رسالت کامیابی کے لئے کوشش اور پھر آخر میں خدا تعالیٰ سے اتحاد کی تلقین۔تو توحید سے لیکر اللہ تعالٰی کے ساتھ اتصال تک کی تمام باتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے اور یہی اسلام کا مقصد ہے۔تیسری چیز یہ ہے کہ پھر دعا کریں اور یہ دو رکعت نماز سے جو جمعہ کے دن پڑھتے ہیں ظاہر ہے یعنی اللہ تعالیٰ پر توکل کریں اور اُس کی مدد تلاش کریں۔یہ تین باتیں اگر جمع ہو جائیں تو یہ ذریعہ کامیابی کا ہے ان کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے کامیابی محال ہے۔رسول کریم نے مکہ میں سخت مظالم کے ماتحت رہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ جب انسان مظلوم ہو تو اس کے لئے سوائے اس کے چارہ ہی کیا ہوسکتا ہے کہ وہ ڈنڈ الیکر کھڑا ہو جائے۔مگر رسول کریم علی اللہ انہی حالات میں سے گزرے اگر تو آپ کی زندگی پھولوں کی سیج پر گزرتی تو مصائب میں پڑنے والے کہہ سکتے تھے کہ ہمارے لئے کیا نمونہ ہے آپ کی زندگی آرام والوں کے لئے نمونہ ہو سکتی ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو ہر قسم کے دکھوں اور مصائب میں سے گزارا۔آپ نے حکومت ہمسائے دوستوں رشتہ داروں کے دکھ اُٹھائے آپ کی جائداد بھی ضبط کر لی گئی حتی کہ آپ جب مکہ میں آئے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کہاں ٹھہریں گے