خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 538

خطبات محمود ۵۳۸ اس کے بعد وہ کئی بزرگوں کے پاس شاگردی کے لئے گئے۔مگر وہ اس قدر ظالم مشہور تھے کہ کسی نے انہیں پاس نہ آنے دیا اور یہی کہا تمہیں تصوف سے کوئی نسبت ہی نہیں ہو سکتی۔آخر ایک بزرگ غالباً جنید بغدادی نے کہا اسی شہر میں جاؤ جہاں تم حکومت کرتے رہے ہو اور ہر دروازہ پر کھڑے ہو کر معافی مانگو چنا نچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور واپس آئے تو آپ نے کہا اب تمہارا نفس کا فی ذلیل ہو چکا ہے چنانچہ اپنا شاگرد بنا لیا۔ہے تو قابلیت کا خراب کر لینا انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے جس طرح خلعت کو انسان خراب کر سکتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کے انتخاب میں نقص نہیں ہو سکتا جب کسی شخص کو وہ نبی زمان کی شناخت کی توفیق دیتا ہے تو اس کے معنے ہی یہ ہیں کہ اس کے اندر دنیا میں انقلاب پیدا کرنے کی قابلیت موجود ہے۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُ وَافِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا - یعنی ہدایت قلبی مؤانست سے ہی ملتی ہے کچھ تعلق اور علاقہ ہوتا ہے بھی نبی کی شناخت کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی مہر ہے جس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ کام کی قابلیت موجود ہے ہاں اگر کوئی شخص بچے دل سے مؤمن نہیں بلکہ جانتا ہے کہ وہ منافق ہے تو اور بات ہے۔پس جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ خدا کے انتخاب کی قدر کریں اور ناشکری نہ کریں۔تم ایک پٹواری کو ہی جاہل کہہ کر دیکھو وہ فوراً جواب دے گا کہ میں جاہل ہوں تو گورنمنٹ نے مجھے پٹواری کیوں بنایا حالانکہ گورنمنٹ ڈپٹی کمشنر بلکہ اس سے بھی بڑا عہدہ کسی جاہل یا بیوقوف کو دے سکتی ہے مگر خدا تعالیٰ کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں ہو سکتا۔وہ جسے منتخب کرتا ہے صحیح طور پر کرتا ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ ہم اس کے اس عظیم الشان فضل کی قدر کر سکیں۔اللہ تعالیٰ کا فعل جہالت سے نہیں ہو سکتا اس کے انتخاب کے معنی یہی ہیں کہ قابلیت موجود ہے اور جب یہ معلوم ہو گیا تو گویا آدھا کام ہو گیا باقی نصف محنت سے ہو گا۔خدا تعالیٰ توفیق دے کہ ہم اسے بھی پورا کر سکیں اگر نہ کریں گے تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہوگی۔( الفضل ۱۸۔دسمبر ۱۹۳۰ء ) الدخان: ۳۲ الدخان: ۳۳ البداية والنهاية جلد2 صفحه ۴۳٬۴۲ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۶ء تذکرۃ الاولیاء صفحه ۴۳٬۳۵ هي العنكبوت: ۷۰