خطبات محمود (جلد 12) — Page 527
خطبات محمود ۵۲۷ سال ۱۹۳۰ء مساوات قائم کرنے کیلئے کھڑے ہوئے ہیں لیکن اگر ہم اپنے گھروں میں ہی مساوات قائم نہیں کر سکتے تو دوسروں میں کیا کریں گے۔بے شک اس میں بہت مشکلات ہیں مگر وہ مشکلات حل کرنے کیلئے ہی ہیں اور جب تک کوئی قوم انہیں حل نہ کرے کا میابی کس طرح حاصل کر سکتی ہے۔بسا اوقات ایک شخص حق پر ہوتا ہے اور دوسرا نا حق پر مگر جو ناحق پر ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے اس سے سختی کی جارہی ہے۔اس احساس کا دور کرنا بہت ہی مشکل کام ہے مگر مؤمن اسی لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ ایسی مشکلات کو دور کریں۔اور نبی اس لئے آتے ہیں کہ مشکلات کے پہاڑوں کو ہٹا ئیں۔تنکے کو تو ہر ایک ہٹا سکتا ہے ان مشکلات پر غالب آنا بے شک پہاڑ کا ہٹانا ہے مگر جب تک ہر ایک پھاوڑھ لیکر کھڑا نہ ہو جائے کون اسے دور کر سکتا ہے۔اگر تمہیں کامیاب ہونا ہے تو ان پہاڑوں کو دور کرنا ہو گا۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ احساسات میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کر یں خصوصیت سے ان کو توجہ دلاتا ہوں جو افسر کہلاتے ہیں۔اور انہیں توجہ دلاتا ہوں جو بڑے کہلاتے ہیں پھر انہیں توجہ دلاتا ہوں جو عالم کہلاتے ہیں مگر یہ کہہ دینا چاہتا ہوں اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اپنے فرائض چھوڑ دیں۔فرائض منصبی کی ادائیگی کے لئے اگر کسی کے احساسات کی قربانی کرنی پڑے تو ضرور کریں لیکن اس میں حرج نہ واقع ہوتے ہوئے جتنی نرمی دکھا سکیں دکھا ئیں تا کہ یہ احساس مٹ جائے کہ کوئی بڑا ہے اور کوئی چھوٹا۔حقیقی بڑائی دوسروں سے خود ادب کرالیتی ہے بڑائی کی ظاہری شکل سے ادب حاصل نہیں ہوسکتا۔میں نے دیکھا ہے کئی لوگ جو دین سے حقیقی تعلق نہیں رکھتے بڑھ بڑھ کر مجھ سے باتیں کرتے ہیں اور کئی ایسے ہوتے ہیں جو بڑے اخلاص کا اظہار کرتے ہوئے ہاتھ چومتے ہیں مگران کے ہاتھ چومنے پر مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا انہوں نے ہاتھ کو نجاست لگا دی اور اُن کی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ گویا گالیاں دے رہے ہیں۔تو ظاہری ادب کچھ حقیقت نہیں رکھتا اگر دل میں ادب ہے تو وہ زبان سے خود ادب کرا لے گا۔اس میں کیا شبہ ہے کہ شیشے کی تصویر اصلی آدمی نہیں ہوتا مگر یہ بھی کس طرح ممکن ہے کہ شیشے کے سامنے آدمی کھڑا ہو اور شیشہ میں اس کی شکل نظر نہ آئے۔اسی طرح گو ظاہری ادب حقیقی چیز نہیں مگر یہ بھی ممکن نہیں کہ دل میں ادب ہو اور ظاہر میں نہ ہو۔پس حقیقی چیز دلوں کی محبت ہے اگر یہ ہو تو ظاہر آپ ہی درست ہو جاتا ہے۔