خطبات محمود (جلد 12) — Page 491
خطبات محمود ۴۹۱ سال ۱۹۳۰ء سامنے جائے تو وہ نہایت تپاک سے اس سے شیک ہینڈ ( مصافحہ ) کرے گا اور اسے دیکھ کر اس کی باچھیں کھل جائیں گی کیونکہ وہ سمجھے گا یہ ہمارا اپنا آدمی ہے۔لیکن اگر ایک بُراق کی طرح سفید اور خوبصورت شخص تیں پینتیس گز کا سندھی پاجامہ پہن کر اور بڑی سی نوکدار جوتی پہن کر جائے تو انگریز اسے دیکھتے ہی پیچھے ہٹ جائے گا اور خواہ ایسا لباس پہننے والے کے اندر انگریزیت پوری طرح گھر کر چکی ہو لیکن ایک انگریز اسے مل کر خوش نہیں ہو گا۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ظاہر کا اثر بہت بڑا ہوتا ہے اور بعض حدود کے اندر ظواہر کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔جیسے دودھ کو محفوظ رکھنے کے لئے برتن کا ہونا نہایت ضروری ہے حالانکہ وہ اصل چیز نہیں اصل دودھ ہی ہے لیکن وہ برتن کے بغیر رہ نہیں سکتا اور یقیناً ضائع ہو جائے گا۔اسی طرح شریعت کے بھی بعض ظاہری احکام ہیں اور نظام کو قائم رکھنے کے لئے ان کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ڈاڑھی منڈانے کا رواج تھا مگر آپ نے مسلمانوں کو ڈاڑھی رکھنے کا حکم دیا۔اس کے آپ نے کوئی ایسے فوائد بیان نہیں کئے جو بظاہر نظر آتے ہوں بلکہ صرف یہ فرمایا کہ دوسرے منڈاتے ہیں اس لئے تم رکھو۔اس کے علاوہ آ نے کوئی ایسی بات نہیں بیان فرمائی کہ ہم کہیں اس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس حکم کی پابندی اس زمانہ میں ضروری نہیں لیکن اس کا ظاہری فائدہ یہ ہے کہ اس سے ایک مسلمان دوسرے کو دیکھتے ہی پہچان لیتا ہے گویا یہ بطور نشان اور علامت کے ہے پھر اس کے علاوہ یہ فائدہ بھی ہے کہ ظاہری مشارکت قلبی اتحاد کی تقویت کا موجب ہوتی ہے۔اس کے علاوہ اور بھی ایسے احکام ہیں مثلاً السّلامُ عَلَيْكُمْ کہنا ہے۔یہ صرف دعا ہی نہیں اگر یہ صرف دعائیہ فقرہ ہی ہو تو اردو یا پنجابی یا اپنی اپنی مادری زبان میں اس سے بہتر دعائیہ فقرات کہے جا سکتے ہیں لیکن اس کے بغیر اسلامی منشاء پورا نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے بغیر ظاہری مشارکت کا سامان پورا نہیں ہو سکتا اور ظاہری اتحاد سے باطن کا جو اتحاد پیدا ہوتا ہے وہ حاصل نہیں ہوسکتا۔پس خاص لفظوں میں دعا کا حکم اس واسطے دیا کہ تا ساری دنیا کے مسلمانوں میں اشتراک پیدا ہو اور چینی تیتی، کشمیری سب میں ایک ہی مشترک جملہ ہو۔اگر کوئی شخص اپنی | زبان میں ہی دوسرے کو دعا دے تو بظاہر تو یہ ایک غیر اہم بات ہے لیکن باطن میں اس کا اثر بہت بُرا ہو گا۔