خطبات محمود (جلد 12) — Page 442
خطبات محمود سمسم سال ۱۹۳۰ء ہندوستان سے مذہب کو مٹا دوں۔پس ہمارا کانگریس سے اختلاف اس وجہ سے ہے کہ یہ تحریک مذہب، تمدن اقتصادیات' سوشل، تمدنی اور سیاسی عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دینے والی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر یہ تحریک کامیاب ہو گئی تو انگریز تو ہندوستان سے چلے جائیں گے مگر امن بھی یہاں قائم نہیں ہو سکے گا کیونکہ اس کی تقویت کے ساتھ ساتھ ہر ایک کے دل میں یہ خیال پیدا ہو رہا ہے کہ جس قانون کو تم نہ سمجھ سکو ا سے توڑ ڈالو۔سوشلزم کے بعض فرقے جن کا فرانس میں زیادہ زور رہا ہے خیال رکھتے تھے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے کوئی پیسہ نہیں خرچ کرنا چاہئے اور ریل کا سفر بغیر کسی کرایہ کے ہونا چاہئے۔اسی طرح جائدادوں پر بھی کسی فرد کا قبضہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ سارا مال سب کے لئے ہے۔کسی دکان پر گئے اور جو چیز پسند آئی اُٹھا کر جیب میں ڈالی اور چل دیئے۔تو قانون شکنی کا خیال پیدا کر کے تمام حدیں ٹوٹ جاتی ہیں اسی وجہ سے ہم کانگریس کی مخالفت کرتے ہیں۔ہاں اگر وہ طریق چھوڑ دے جو ملک کے اخلاق اور مذہب کو برباد کرنے والے ہوں تو پھر تصفیہ حقوق کا سوال پیدا ہو گا وگرنہ وہ چونکہ زہر پھیلا رہے ہیں اس لئے خواہ وہ سارے کے سارے حقوق ہمارے حوالے کر دیں اور ہمارے تمام مطالبات تسلیم کر لیں پھر بھی ہم ان کی مخالفت ترک نہیں کر سکتے۔ہاں جو ان ذرائع کو جائز قرار دیتے ہیں اور صرف حقوق کی بناء پر مخالف ہیں ان سے ہم یہی کہیں گے کہ کانگریس کے ساتھ شامل ہونے سے قبل اس سے اپنے حقوق منوالو۔باقی اگر اس سوال کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو بھی ہندو انگریزوں سے بہتر نہیں ہو سکتے۔دنیا میں ایک عام قاعدہ یہ ہے کہ جو مصیبت پہلے انسان پر آتی ہے اسے تو وہ سہہ لیتا ہے لیکن نئی مصیبت زیادہ پریشانی کا موجب ہوتی ہے۔مولوی محمد حسین صاحب آزاد نے جو گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر تھے اور اب فوت ہو چکے ہیں اسی لطیفہ پر ایک دلچسپ مضمون لکھا تھا کہ انسان جس تکلیف کا عادی ہو جائے اسے تو وہ زیادہ محسوس نہیں کرتا لیکن نئی تکلیف کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے۔انہوں نے حشر کے میدان کا نظارہ کھینچا ہے کہ ایک میدان ہے جہاں یہ اجازت ہے کہ لوگ اپنی پرانی بیماریاں چھوڑ کر نئی منتخب کر لیں جنہیں وہ اپنے لئے ہلکی سمجھیں۔ہر شخص نے وہاں جس بیماری کو اپنے لئے ہلکا سمجھا اختیار کر لیا اور اپنی پرانی بیماری کو وہاں چھوڑ دیا۔جس کے سر میں دردتھی اس نے خیال کیا پیٹ کی درد اس سے اچھی ہے۔انسان کا دماغ تو کام کر سکتا ہے اُس نے