خطبات محمود (جلد 12) — Page 395
خطبات محمود ۳۹۵ سال ۱۹۳۰ء ہمارا دعوی ہے بلکہ ہم مشاہدہ کر چکے ہیں کہ خدا تعالی کا براہِ راست تعلق ہمارے ساتھ ہے اور جب هم اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے کہتے ہیں تو اس کی محبت کا ہاتھ ہماری طرف بڑھتا ہے اور سب پردے چاک کر کے ہمیں اس کے پاس کھڑا کر دیتا ہے اور ہمارے اور اس کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی حتی کہ محمد رسول اللہ ﷺ بھی درمیان میں نہیں آسکتے اور جب ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہم خدا کے ہیں اور خدا ہمارا تو پھر کسی اور سے ڈرنے کے کیا معنے ہو سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک رؤیا ہے۔آپ کو دکھایا گیا کہ دنیا پر ہولناک مصائب آ رہے ہیں۔ہر طرف ہلاکت منہ کھولے کھڑی ہے اور دنیا تباہ ہو رہی ہے اس وقت آپ کو الہام ہوا۔آگ سے ہمیں مت ڈرا۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔اور سب سے بڑھ کر عذاب جس سے لوگ ڈرتے ہیں آگ کا ہی عذاب ہے۔کہتے ہیں فلاں ہمیں گولی مار دے گا ہمارے مکان کو آگ لگا دے گا یا آگ میں جلا ڈالے گا اور پھر بیماریاں اور وبا میں بھی آگ ہی ہوتی ہیں ان میں جو مبتلاء ہو وہ بھی یہی کہتا ہے آگ لگی ہوئی ہے۔تو یہی آگ کا عذاب بہت بڑا عذاب ہے مگر اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوتا ہے۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔پس جو شخص سچے دل سے آپ کا منبع اور غلام ہو آگ اسے ہرگز نہیں ڈرا سکتی۔اس کے تعلقات اللہ تعالیٰ سے اس قدر مضبوط ہوتے ہیں کہ وہ ہر گز ضائع نہیں ہو سکتا۔پس آپ لوگوں کو بہادر جری اور دلیر بنا چاہئے کسی حالت میں کسی سے خوف نہیں کھانا چاہئے۔ان حالات کے متعلق میں جماعت کو یہی نصیحت کرتا ہوں کہ اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ احمدیوں کو اپنی کثرت اور طاقت سے مرعوب اور مجبور کر کے اپنے حسب منشاء کام کرائے تو خواہ اس کی تحریک وطنی ہی ہو اس کا مقابلہ کرو کیونکہ وہ ملک کے اندر بُزدلی اور جین پیدا کرنے والا ہے اس لئے اس کی اطاعت ہرگز نہ کرو۔اور کانگریس نے بھی چونکہ اب جبر سے کام لینا شروع کر دیا ہے اس لئے ہماری جماعت کے لوگ جہاں جہاں بھی ہوں خواہ وہ کتنی ہی کم تعداد میں کیوں نہ ہوں وہ بتا دیں کہ ہم کسی کے جبر کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔گاندھی جی جب لاہور میں آئے تو کسی نے ان سے کہا احمدی جماعت ہماری تحریک میں زبردست روک ہے۔مجھے جس ہندو دوست نے یہ بات سنائی میں نے اسے کہا آپ گاندھی جی کو کہہ دیں۔وہ قادیان آئیں میں جماعت کو بلاؤں گا کہ وہ ان کی باتیں سنے اور ہم ان کی باتیں پورے غور سے سنیں گے۔اگر وہ