خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 382

خطبات محمود ۳۸۲ سال ۱۹۳۰ء اسے خود کشی کہا جائے، خواہ اس کا نام تباہی اور بربادی رکھا جائے، خواہ اسے ہلاکت اور خونریزی قرار دیا جائے ملک اس کے لئے آمادہ ہو جائے گا۔اسے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جائے گا کہ جو طریق اختیار کیا گیا ہے وہ خود کشی اور ہلاکت ہے۔مگر انسانی طبائع میں ایک وقت ایسی رو بھی چل جاتی ہے کہ وہ خود کشی کو ہی بہتر خیال کرنے لگ جاتے ہیں اور اسی کو اپنے لئے مفید سمجھ لیتے ہیں۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کئی ایک انسان جو موت کو پسند نہیں کرتے اور جان کو بہت عزیز سمجھتے ہیں ان پر بھی بعض اوقات ایسے آجاتے ہیں جبکہ زہر کھا کر یا کسی اور ذریعہ سے مر جانا پسند کرتے ہیں۔اور جس طرح افراد پر ایسی حالت آتی ہے کہ جان دینے کی مصیبت برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور چاہے انہیں بتایا جائے کہ اگر یہ چیز کھاؤ گے تو مر جاؤ گے پھر بھی وہ کہتے ہیں ہم یہ چیز ضرور کھائیں گئے، کیونکہ ہم زندہ رہنا پسند نہیں کرتے اور ایسی زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔اسی طرح قوموں پر بھی ایسے اوقات آتے ہیں جب وہ خود کشی کے لئے تیار ہو جاتی ہیں اور اپنی ہلاکت کو سامنے دیکھتی ہوئی اس میں کود پڑتی ہیں۔غرض دنیا میں آزادی اور حریت کا مادہ اس قدر گہری جگہ حاصل کر چکا ہے۔اور ہندوستان اس سے اس درجہ متاثر ہو چکا ہے کہ اب یہ زیادہ عرصہ تک بغیر سمجھوتہ کے ذریعہ قائم شدہ حکومت کے انگلستان کے ماتحت رہتا نظر نہیں آتا اور جس وقت یہ مادہ پھوٹے گا اس وقت اس کا نام خودکشی رکھا جائے یا جنون اسے جہالت کہیں یا نادانی تباہی کہیں یا خودکشی، ہندوستان کا بہت بڑا طبقہ آج نہیں تو گل، گل نہیں تو پرسوں اس خود کشی کے لئے تیار ہو جائے گا اور اس لئے تیار ہو جائے گا کہ غیر اقوام کے ماتحت کوئی قوم ہمیشہ کے لئے نہیں رہ سکتی۔ان حالات میں ایک طرف تو ہم کانگریس کی نیت پر حملہ کرنے اور اس کے مقصد کو بُرا کہنے کے لئے تیار نہیں اور دوسری طرف انگریزوں کا حکومت کا حق جو چلا آتا ہے اس کا انکار کرنے کے لئے تیار نہیں۔بے شک یہ کہ لو کہ انگریزی تلوار لیکر نکلے اور اس طرح انہوں نے ہندوستان میں حکومت قائم کی لیکن مسلمانوں نے بھی تو طاقت کے ذریعہ ہی ہندوستان پر حکومت حاصل کی تھی اور ان سے پہلے آریوں نے بھی تو تلوار ہی کے ذریعہ سے حکومت حاصل کی تھی۔پس جس قانون کے ماتحت مسلمانوں نے حکومت قائم کی، آریوں نے قائم کی، بدھوں نے قائم کی، فرانس اور جاپان کی حکومتیں قائم ہیں اسی قانون کے ماتحت انگریزوں کی حکومت بھی قائم ہے۔اور جب اُن