خطبات محمود (جلد 12) — Page 318
خطبات محمود FIA کوتا ہی ہے کیونکہ بیعت مستقل اور ہر وقت کے لئے ہوتی ہے اور پھر اس کا تعلق صرف اس دنیا سے ہو ہی نہیں بلکہ اگلے جہان سے بھی ہے۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ایک عورت اپنے خاوند کی بیوی کر یا ایک مرد اپنے کسی عزیز یا قریبی کا بھائی یا دوست ہو کر یا ایک انسان دوسرے کا ملازم ہو کر جس طرح اُس کی آواز پر لبیک کہے اتنا بھی اُس شخص کی بات کی طرف توجہ نہ کی جائے جس کے ہاتھ پر بیعت کی ہو اور اقرار کیا ہو کہ ہماری ہر چیز تمہارے لئے ہے۔ہمارے ملک میں ایک مثال ہے کہ سو گز واروں ایک گز نہ پھاڑوں۔یعنی زبانی طور پر تو سو گز سر پر سے قربان کیا جا سکتا ہے مگر جب بچ بچ دینے کا سوال ہو تو ایک گز بھی دینا مشکل ہے۔اس لئے جس شخص کی بیعت اس مثل کے مطابق ہو وہ یقینا بیعت کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی ایسی بیعت سے اس شخص کا تو کوئی نقصان نہیں ہو سکتا جس کے ہاتھ پر بیعت کی ہو۔ہاں اگر کسی کی بیعت سے اسے ذاتی فائدہ ہوتا ہو تو البتہ اسے نقصان کا احتمال ہو سکتا ہے لیکن اگر اس نے ذاتی فائدہ نہ اُٹھا نا ہو تو پھر بیعت کرنے والے کی سستی یا کوتاہی کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔اسی طرح اللہ تعالی کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا کیونکہ وہ ہر چیز کی احتیاج سے آزاد ہے۔اگر کوئی نقصان اُٹھا سکتا ہے تو لا الموالي الباهله بُری تدابیر کرنے والوں پر ہی ان کی تدابیر پڑا کرتی ہیں اس لئے وہی نقصان اُٹھا سکتا ہے جو اپنے عہد کی پابندی میں سستی کرتا ہے۔پس جہاں مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ بعض افراد جماعت میں ایسے ہیں جو میری آواز سنتے ہی معاً متوجہ ہو جاتے اور کام کرنے لگ جاتے ہیں۔کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو خطبہ چھپنے کے بعد جلد ہی تغیر کیوں نظر آتا۔باہر سے بھی بیعت کے خطوط زیادہ آنے لگے اور قادیان میں بھی طلباء اور اساتذہ کے اندر ایک بیداری پیدا ہو گئی اور وہ اپنے دوسرے کاموں کو چھوڑ کر فرصت کے اوقات میں تبلیغ میں لگ گئے انہوں نے ذاتی اغراض پر دین کو مقدم کر دیا وہاں میں نے محسوس کیا کہ جماعت کی ترقی میں روک در حقیقت ہماری اپنی سستی ہے کیونکہ جب چند آدمیوں کی چند روزہ کوشش سے کامیابی ہو سکتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ساری جماعت مسلسل کوشش کرے اور کامیابی نہ ہو۔جو دوست کوشش کرتے ہیں ان کی کامیابی کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ طبائع میں انقلاب پیدا ہو چکا ہے لیکن ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں جس طرح کسی عجیب جگہ میں جانے سے لوگ عام طور پر ڈرتے ہیں اور وہ انتظار کرتے ہیں کہ پہلے جانے والے اندر سے کیا