خطبات محمود (جلد 12) — Page 30
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء نے بغاوت کی اور اس میں کامیاب ہو گیا کا بل کو اس نے فتح کر لیا۔بغاوت کے لحاظ سے ہم اس کے فعل کو اچھا نہیں سمجھتے کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ قائم شدہ حکومت کی بغاوت جائز نہیں سوائے اس صورت کے کہ کسی وجہ سے رعایا اس کے ملک کو چھوڑ کر جانا چاہے مگر وہ جانے نہ دے۔پس ہم بغاوت کو بُرا سمجھتے ہیں اور اس فعل کو ہرگز جائز نہیں سمجھتے اس حد تک تو ہمارا بھی دوسروں سے اتفاق ہے۔اس شخص کے متعلق خبر شائع ہوئی کہ اس نے اپنا نام حبیب اللہ رکھا لیا اور اپنا ایک نشان بنایا ہے جس پر لکھا ہے امیر حبیب اللہ رسول خدا - ۱۳۴۷ھ۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں یہ خبر غلط ہے اور محض اس لئے گھڑی گئی ہے کہ اس شخص کے خلاف جوش پھیلایا جائے اس لئے کہ جب امان اللہ خاں کے خلاف اس نے سوال ہی یہ اٹھایا کہ اس نے اسلام کو مٹا دیا ہے اور اس ا طرح اس نے بغاوت پر لوگوں کو آمادہ کیا تھا تو وہ خوب جانتا تھا کہ افغانوں میں کوئی اس قسم کی بات کرنا جس سے بادشاہ بھی مٹ جاتا ہے آسان کام نہیں۔آخر وہ سقہ کا بچہ تھا یا زیادہ سے زیادہ جرنیل کا بیٹا اسے تو یہ بات خوب اچھی طرح معلوم ہونی چاہئے تھی کہ جب لوگ امان اللہ جیسے بادشاہ کے خلاف اس لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ اس نے بعض باتیں اسلام کے خلاف کہیں اور اسے چھوڑ کر اس کے ساتھ مل گئے تو اس کے اس قسم کے دعوی کو کب برداشت کریں گے جس بات کی وجہ سے اسے ساری طاقت اور کامیابی حاصل ہوئی اسی کو اپنے خلاف کس طرح اٹھا سکتا تھا۔وہ جانتا تھا اور خوب جانتا تھا کہ جب افغان عورتوں کا پردہ اٹھانے لڑکیوں کو تعلیم دلانے انگریزی لباس پہنے کے لئے مجبور کرنے پر اتنے برافروختہ ہو سکتے ہیں تو نبوت کا دعوی سن کر وہ کس قدر اشتعال پذیر ہونگے۔جب افغانستان کا ہر سپاہی اس لئے اس کے ساتھ ہوا تھا کہ وہ اسلام کی حمایت میں کھڑا ہوا ہے تو پھر وہ سمجھ سکتا تھا کہ رسالت کا دعوی کر کے کہاں تک کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔پس میں تو سمجھتا ہوں یہ خبر ہی غلط ہے لیکن اگر صحیح بھی ہو تو بچہ سقہ سے جماعت احمدیہ کا کیا تعلق۔مگر اخبار انقلاب میں اس کے متعلق یہ خبر شائع کرتے ہوئے جو عنوان رکھا گیا ہے وہ یہ ہے قادیانی سنت کی پیروی لے اس کا قادیان اور قادیانی سنت سے تعلق ہی کیا ہے؟ اگر رسول کریم ﷺ کی بات سے ملتی جلتی کسی بات کے متعلق اس طرح ہندو لکھتے تو کیا با وجود اس کے کہ ہند و رسول کریم کو