خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 247

خطبات محمود کی حالت میں تغیر پیدا ہو گیا اور سوائے شیعوں کے جو سب صحابہ کو ہی منافق کہتے ہیں کوئی اور مسلمان کسی صحابی کو منافق قرار نہیں دیتا۔اور احادیث کی صداقت کو پرکھنے میں اس کے راویوں کے متعلق ہرگز یہ سوال نہیں ہوتا کہ فلاں صحابی منافق تھے یا مومن بلکہ صحابی ہونا ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ ترجمہ کے ساتھ سُست لوگ بھی اپنی منافقت کو ترک کر بنے پورے مومن بن جاتے ہیں۔اگر چہ بعد کے زمانہ میں پھر منافق پیدا ہو گئے تھے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت صرف ترجمہ ہی ترجمہ رہ گیا تھا اور مشکلات بالکل نہ رہی تھیں۔اور منافق یا تو سخت مشکلات کے زمانہ میں نکلتا ہے یا بالکل امن کے زمانہ میں۔جب امن اور مشکلات دونوں ہوں اُس وقت منافق نہیں ہوا کرتے۔پس احباب جماعت کو ترقی دینے کی کوشش کریں۔شاید کہ اللہ کے فضل سے جماعت کی ترقی کے ساتھ وہ لوگ بھی جو مصائب برداشت نہیں کر سکتے درست ہو جائیں اور اس طرح ہمیں دہری ترقی نصیب ہو۔یعنی بہت سے لوگ باہر سے آ کر شامل ہوں اور بعض اندر سے ہی ٹھیک ہو جائیں۔اور میا د رکھنا چاہئے کہ اندر سے ترقی کر کے آگے آنے والا بھی کچھ کم قابل قدر نہیں ہوتا بلکہ باہر والے سے زیادہ قدر کے لائق ہوتا ہے۔یہ بات قطعاً غلط ہے کہ منافق کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے متعلق ایک وقت مجھے حق الیقین تھا کہ وہ منافق ہیں۔لیکن آج ویسا ہی حق الیقین ہے کہ وہ مومن ہیں اور بچے مومن ہیں انہوں نے اپنی اصلاح کرلی۔پس نئے سال کے لئے میں جماعت کے سامنے پروگرام رکھتا ! ہوں کہ وہ اس سال میں اپنے رتبہ کا کم از کم ایک آدمی احمدی جماعت میں داخل کرنے کی کوشش کریں جو اس سے زائد کریں گے وہ زیادہ اجر کے مستحق ہوں گے مگر اس قدر تو ضرور ہونا چاہئے۔اور چونکہ یہ کام ساری جماعت سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اس میں خود کوشش کرنے کے ساتھ دوسروں کو بھی اس طرف متوجہ کرتے رہنا چاہئے اور دوسروں سے پوچھتے رہنا چاہئے کہ تم نے اس کام کے لئے اپنا نام لکھوایا ہے یا نہیں تا ہر ایک اس کام میں لگ جائے اور ہر ایک خیر کا محرک اور آسمانی فرشتوں کا نمائندہ بن سکے اور آئندہ سال میں جماعت نمایاں ترقی کر سکے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں نیک ارادوں کی توفیق عطا فرمائے اور پھر انہیں درا کرنے کی بھی طاقت دے۔آمین الفضل ۱۰ جنوری ۱۹۳۰ ء ) ابراهیم: ۸