خطبات محمود (جلد 12) — Page 239
خطبات محمود ۲۳۹ سال ۱۹۲۹ء یہ انتہائی میں ہے اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی حکمتوں کے ماتحت کہ انسان اپنے اندازوں میں غلطی کمر سکتا ہے، اس کے راستے میں روکیں ہو سکتی ہیں نماز کے ایسے اوقات مقرر کر دیے۔بعض نمازوں کا وقت چار پانچ گھنٹے تک رہتا ہے مثلا عشاء کی نماز کا وقت مغرب کے ایک گھنٹہ بعد سے شروع | ہو کر رات کے بارہ بجے تک رہتا ہے پھر ظہر میں تین گھنٹہ کا وقت ہے یعنی نہایت خفیف سے زوال سے شروع ہو کر قریباً دو سائے ڈھلنے تک رہتا ہے تو ان اوقات میں اجازت ہے کہ نماز ادا کر لی جائے۔گو یا خدا تعالیٰ نے ایک نہایت اہم فرض میں بھی رعایت رکھ دی ہے جس سے مجبوری کی حالت میں فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔میرے دل میں خیال آیا کہ جب خدا تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض بھی بندوں کے لحاظ سے آگے پیچھے ہو سکتے ہیں تو بندوں کو خیال کرنا چاہئے کہ وہ اپنے حقوق کی ادائیگی کے لئے کیوں سخت گیر بنیں۔جب اللہ تعالیٰ نے فرض کی ادائیگی میں ڈھیل دی ہے اگر چہ بعض حدیں قائم کی ہیں لیکن درمیان میں کافی وقفہ دیا ہے کہ جس وقت چاہو ادا کر لو۔سردیوں میں عشاء کی نماز کے لئے قریباً ساڑھے پانچ گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے تو پھر انسان کو سوچنا چاہئے کہ آپس میں معاملات کرتے وقت خیال رکھیں کہ دوسروں کے احساسات کو بلا وجہ تھیں نہ لگے۔جس طرح نماز جمعہ ایک ظاہری اجتماع ہے اسی طرح انبیاء کی بعثت سے ایک باطنی اجتماع ہوتا ہے بعض اجتماع انسان کی اپنی مرضی سے ہوتے ہیں جیسے شادی ہے یا دوستوں کا انتخاب ہے انسان سوچ لیتا ہے کہ میں کس قسم کی عورت سے شادی کروں یا کس قسم کے لوگوں کو دوستی کے لئے منتخب کروں۔اسی طرح محلہ داروں کے متعلق انسان سوچ لیتا ہے کہ مجھے کن لوگوں میں رہنا چاہئے لیکن نبی کے ذریعہ اجتماع ایسا اجتماع ہوتا ہے جس میں شمولیت انسان کی مرضی کی بات نہیں یہ اجتماع نہایت ہی نازک ہوتا ہے اس میں بندے کی مرضی کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ خدا کی اپنی مرضی سے ہی یہ قائم ہوتا ہے اس لئے اس میں مختلف طبائع کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہوتا ہے شادی کے معاملہ میں میاں بیوی ایک دوسرے کی طبائع یا ایک دوسرے کے رشتہ داروں کی طبائع کا کچھ نہ کچھ اندازہ کر لیتے ہیں اسی طرح دوستی پیدا کرتے وقت بھی طبائع کا پوری طرح خیال کر لیا جاتا ہے لیکن انبیاء کی جماعت میں چونکہ رنگا رنگ کے لوگ ہوتے ہیں اس لئے اس میں طبائع کا ملنا بہت مشکل ہوتا ہے۔اور جب تک انسان یہ نہ سمجھ لے کہ یہ دوستی اللہ تعالیٰ نے کرائی ہے اسے قائم نہیں رکھ سکتا۔اس دوستی میں کسی کی مرضی کا دخل نہیں ہوتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ