خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 117

خطبات محمود 114 کہ ایسی باتوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔دنیا کی سزائیں تو بسا اوقات لذت دسرور پیدا کرتی ہیں۔میں تو کہتا ہوں اگر خدا تعالیٰ نے بُری دعا مانگنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو مومن دعائیں مانگتے کہ خدایا! ہمارے مخالف اور زیادہ کر کہ تیرے رستہ میں ہم اور بھی زیادہ تکالیف اٹھائیں۔دنیا کی مخالفت کیا ہے؟ اصل چیز تو خدا تعالیٰ کی رضا ہے غرض جسے یہ حاصل ہو جائے سمجھو کہ کامیاب ہو گیا اور جس سے خدا ناراض ہو جائے اس سے بڑھ کر نا کام کوئی نہیں۔پس یہ خیال غلط ہے کہ ہمارا کوئی کیا بگاڑ لے گا۔روحانی سلسلوں میں تلوار نہیں ہوتی ، جبر نہیں ہوتا مگر سز ا ضرور ملتی ہے۔وہ جو میری مخالفت پر کھڑے ہوئے ہیں اگر آج نہیں تو کل دنیا ان کا انجام دیکھ لے گی۔میں نے بہت دفعہ بیان کیا ہے کہ قادیان میں بھی ست لوگ پیدا ہو گئے ہیں۔میرے پچھلے خطبات نکال کر دیکھ لو میں نے صاف طور پر ان کا ذکر کیا ہے اور اب بھی میں کہتا ہوں کہ ایسے لوگ یا تو بالکل علیحدہ ہو جائیں گے یا ان کے ایمان درست ہو جائیں گے تب خدا تعالیٰ کی قدرت خاص طور پر ظاہر ہوگی۔یہ عارضی باتیں ہیں جو جلد مٹ جائیں گی اور گالیاں دینے والوں کو کوئی یا دبھی نہیں کرے گا۔لیکن اس لحاظ سے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خلیفہ ہوں اور مجھ سے خدا تعالیٰ نے اسلام کی خدمت کی ہے میرا نام اُس وقت بھی دنیا میں روشن ہوگا جب یہ لوگ مٹ چکے ہوں گے۔جس طرح آج بعض لوگ حیران ہیں کہ انہیں سزا کیوں نہیں ملتی ؟ اگلے لوگ اس بات پر حیران ہوں گے کہ یہ بھی کوئی وجود رکھتے تھے اور ان کی بھی کوئی ہستی تھی کہ ایسے ذلیل لوگوں کی طرف توجہ کی جاتی تھی کیونکہ خدا تعالیٰ انہیں ایسا ذلیل کرے گا اور ان کی ذلت کو ایسی بھیانک بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرے گا کہ لوگ حیران رہ جائیں گے۔کیا عبد اللہ بن ابی بن سلول کا کوئی وجود ہے؟ صرف قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی کوئی ہستی تھی۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کی صداقت کا نشان ظاہر کرنے کیلئے اس کے نام کو قائم رکھا ہے ورنہ اس کی اپنی ہستی کوئی نہیں۔اسی طرح یہ ہیں انہیں بھی خدا تعالیٰ ایسا ذلیل ورسوا کر لگا کہ ان کی اولادیں ان کی طرف منسوب ہونا بھی پسند نہیں کریں گی۔یہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔میں خود کہتا ہوں مگر تعلی سے نہیں کہ محض خدا کے فضل نے مجھے اس درجہ پر قائم کیا ہے۔مجھے اس کی کبھی خواہش نہیں ہوئی اور اب بھی میں اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھتا لیکن خدا تعالیٰ کے کاموں۔