خطبات محمود (جلد 12) — Page 114
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء گریہ وزاری سنی گئی اور رسول کریم ﷺ نے ان کی معافی کا اعلان کرا دیا۔وہ بڑے مالدار آدمی تھے اور اسی لئے وہ جنگ میں شامل نہ ہو سکے تھے کیونکہ انہوں نے خیال کیا کہ سامان کی کمی نہیں پیچھے چل کر بھی شامل ہو سکوں گا۔جب ان کو معافی کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنا سارا مال خدا کے رستہ میں دے دیا تھی کہ جو شخص یہ خوشخبری ان تک لایا اسے قرض لے کر انعام دیاہے کیونکہ اب وہ اپنے آپ کو اپنے مال کا مالک نہ سمجھتے تھے بلکہ خدا کی راہ میں دے چکے تھے۔تو سزا نقطۂ نگاہ کے لحاظ سے ہوا کرتی ہے۔ہمارے پاس کوئی سیاست نہیں کہ کسی کو دنیاوی سزا دے سکیں لیکن جس کے اندر ایمان ہے وہ دنیا وی سزا کو کیا سمجھتا ہے۔رسول کریم علیہ کے زمانے میں مسلمانوں پر سخت مظالم کئے جاتے اور انہیں سخت دنیا وی سزائیں دی جاتی تھیں۔عورتوں کی شرم گاہوں میں نیزے مار کر انہیں ہلاک کر دیا جاتا تھا ایک پیر ایک اونٹ سے اور دوسرا دوسرے سے باندھ کر انہیں چیر دیا جاتا تھا، تپتی ریت پر لٹا کر اُن کے سینوں پر پتھر رکھ دیے جاتے تھے ذرا غور کرو یہ کس قدر سنگین سزا ئیں تھیں۔آج کل ہمارے سروں پر اگر سائبان نہ ہو تو ہم نماز نہیں ادا کر سکتے لیکن انہیں مکہ جیسی گرم جگہ میں نگا کر کے تپتی ریت پر لٹا کر او پر پتھر رکھ دیئے جاتے تھے ان کے پاؤں میں رسے باندھ کر انہیں گھسیٹا جا تا تھا وہ ان سزاؤں کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے لیکن رسول کریم ﷺ یا صحابہ کا نہ بولنا ان کے لئے اس قدر بڑی سزا تھی کہ قرآن کریم میں ان کی حالت اس طرح بیان کی گئی ہے۔ضاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ل زمین با وجود فراخ ہونے کے ان کے لئے تنگ ہو گئی۔بادشاہ انہیں تختوں پر اپنے ساتھ بٹھانے کو تیار تھے لیکن وہ اسے انعام نہیں سمجھتے تھے بلکہ مزا جانتے تھے تو سزا نقطہ نگاہ کے لحاظ سے ہوتی ہے۔مؤمن کبھی نہیں کہتا کہ ہمارا کیا بگاڑ لیا جائے گا۔سزا دینے کی جو طاقت ہمیں ہے وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تھی پھر یہ فقرہ کوئی ان کے متعلق بھی کہہ سکتا تھا۔رسول کریم ہے کو مدینہ میں بے شک اختیارات حاصل ہو گئے تھے لیکن مکہ میں دنیوی اختیارات کے لحاظ سے پ کی پوزیشن وہی تھی جو حضرت مسیح موعود کی یا ہماری ہے۔پھر آپ کے متعلق بھی کوئی کہہ سکتا تھا ہمارا کیا بگاڑ لیا جائے گا۔لیکن نہیں۔صحابہ سمجھتے تھے یہ جو کچھ بگاڑیں گے وہ کوئی اور نہیں بگاڑے گا۔جس سے محبت ہو اُس کی ناراضگی بہت بڑی سزا ہے۔قرآن کریم میں ہے اگر تمہیں اپنے وطن، مال، عزیز واقارب خدا سے زیادہ پیارے ہیں تو سمجھ لو تم میں ایمان نہیں۔تو جہاں محبت