خطبات محمود (جلد 12) — Page 104
خطبات محمود م ۱۰ سال ۱۹۲۹ء ہے خواہ اس پر پچاس سال بھی کیوں نہ گذر جائیں۔پس بجٹ بھی وعدہ ہے جس کا پورا کرنا ہر جماعت کے لئے ضروری ہے۔اگر وہ اس سال ادا نہیں ہوتا تو اس کے کھاتے میں ضرور درج رہے گا خواہ کتنی مدت گذر جائے اس کے ذمہ وہ واجب الاداء ہی ہوگا۔پس جو لوگ خدا تعالیٰ سے معاملہ صاف رکھنا چاہتے ہیں ان کے لئے تو نہ اپریل کی قید ہے نہ مئی کی بلکہ انہوں نے خواہ کتنی مدت بھی کیوں نہ گذر جائے آخر اسے ادا کرنا ہے اور اس کے لئے وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں کیونکہ ان کے ذمہ یہ ایک فرض ہے۔فرض بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو جیسے زکوۃ ہے یا ہماری جماعت کے لئے وصیت ہے۔اس میں حد بندی ہے کہ کم از کم دسواں حصہ ادا کیا جائے یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی مقرر ہیں۔اور کچھ فرض وہ ہوتے ہیں جو انسان اپنے پر خود مقرر کر لیتا ہے اور پھر وہ بھی ایسے ہی ضروری ہو جاتے ہیں جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ فرائض۔فقہاء نے اس پر بحث کی ہے کہ نفل ضروری نہیں لیکن اگر کوئی شخص ارادہ کر لے تو وہ بھی اس کے لئے فرض ہو جاتے ہیں۔جب کوئی شخص نذر مان لے تو پھر اس کا ادا کرنا اس کے لئے فرض ہی ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ہر وہ چیز جو نفل ہے جب اپنے اوپر واجب کر لی جائے تو وہ بھی فرائض و واجبات میں شامل ہو جاتی ہے اور اس کا پورا کرنا ایسا ہی ضروری ہو جاتا ہے جیسے خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ فرائض کا۔سو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ۳۰۔اپریل کے بعد بھی بقیہ رقوم کی ادائیگی اسی طرح ضروری رہے گی۔اس وعدہ کی بناء پر جو جماعت کرتی ہے اخراجات تو ہو جاتے ہیں لیکن اگر وہ پورے نہ ہو سکیں تو اس کا اثر اگلے سالوں پر پڑتا ہے اور اس صورت میں مالی حالت اُس وقت تک درست نہیں ہو سکتی جب تک بقائے ادا نہ ہوں۔پس گو یہ میری آواز جماعتوں کو اُس وقت پہنچے گی جب اپریل میں وعدے پورے کرنے کا کوئی وقت نہیں ہوگا۔لیکن میں نے بتا دیا ہے کہ خدا کے ساتھ جو وعدہ کیا جائے اس میں اپریل یا مئی کا کوئی ذکر نہیں ہوتا بلکہ وہ زندگی سے لے کر موت تک کا وعدہ ہوتا ہے۔جس نے اسے اس سال پورا نہیں کیا اس نے اگر ستی کی ہے تو اسے چاہئے کہ اگلے سال کے ساتھ ملا کر ادا کرنے کے علاوہ استغفار بھی کرے۔اگلے سال کے لئے بھی نمائندے جو وعدہ کر گئے ہیں اسے بھی پورا کریں اور پچھلا بھی ادا کریں کیونکہ وہ عہد ہے اور عہد مسئول ہے یہ نہیں کہ وہ مرضی سے اپنے ذمہ لیا تھا اور جب چاہا چھوڑ دیا۔اللہ تعالیٰ