خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 103

خطبات محمود ۱۰۳ سال ۱۹۲۹ء سے نقصان ہوگا کیونکہ اس سے ایک اپنا ہی بنایا ہوا قانون توڑنا پڑے گا اور جس قوم میں قانون کا احترام نہ رہے وہ کامیاب نہیں ہو سکتی اس لئے قانون تو تو ڑا نہیں جا سکتا لیکن مخلص کے لئے رستہ کھلا ہے جس نے خدا کے لئے دینا ہے اس کے لئے اپریل اور مئی مساوی ہیں۔اگر کوئی شخص یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کا نام ان لوگوں کی فہرست میں شائع ہو جائے جنہوں نے بجٹ وقت پر پورا کر دیا ہے یا اخبار میں اس کا نام شائع ہو جائے اور اس خیال سے کسی مزید مہلت کا خواہاں ہے تو میں کہوں گا اس نے بہت گھاٹے والا سودا کیا کیونکہ اس نے لوگوں کی خوشی کو خدا کی رضا پر مقدم کیا۔لیکن اگر کوئی شخص ایسی مجبوریوں کی وجہ سے جو اس کے تصرف سے باہر ہیں مقررہ وقت میں بجٹ پورا نہیں کر سکا تو بعد میں جس قدر جلد ممکن ہو کر سکتا ہے۔پس میں سمجھتا ہوں اگر میعاد نہ بھی بڑھائی جائے تو بھی مخلص ضرور بجٹ کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ہر بجٹ جماعتوں کے مشورہ سے پاس ہوتا ہے اور سب جماعتوں کے نمائندے مل کر اسے پاس کرتے ہیں اگر کوئی جماعت اپنا نمائندہ مجلس مشاورت میں نہیں بھیجتی تو یہ اس کا اپنا قصور ہے ہماری طرف سے تو متواتر اور بار بار اعلان کئے جاتے ہیں اور یاد دہانیاں کرائی جاتی ہیں کہ نمائندے آئیں اور معاملات پر غور کریں۔پھر جو موجود ہوتے ہیں ان سب کے غور وفکر کے بعد بجٹ تیار ہوتا ہے اور جماعت کے نمائندوں کی کثرتِ رائے اسے پاس کرتی ہے۔اگر چہ ایسا ہو سکتا ہے کہ جماعت کے نمائندوں کی کثرتِ رائے ایک فیصلہ کرے اور میں اسے رو کر دوں لیکن آج تک ایسا ہوا نہیں اور میں نے نمائندوں کا پاس کردہ بجٹ کبھی نا منظور نہیں کیا اور ہمیشہ اسی سے اتفاق کیا ہے جس پر کثرت متفق ہو گئی تا لوگوں میں بشاشت ایمان پیدا ہو اور خدمت دین کا شوق تازہ رہے اور وہ کسی قسم کا جبر محسوس نہ کریں۔تو وہ بجٹ جسے جماعت کے نمائندے تسلیم کرتے ہیں وہ جماعت اور خدا تعالیٰ کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے جسے ہر جماعت تسلیم کرتی ہے کہ پورا کرے گی۔ہمارے سب کام خدا تعالیٰ کے لئے ہیں اس لئے خواہ پچاس سال بھی گذر جائیں وہ معاہدہ بدستور قائم رہے گا۔اگر کوئی جماعت اس معاہدہ یعنی بجٹ کو اس سال پوری طرح ادا نہیں کر سکتی تو بقیہ اسے اگلے سال ادا کرنا چاہئے اگر ہم کسی شخص کو دس دن کے بعد کوئی چیز دینے کا وعدہ کریں لیکن کسی وجہ سے دس دن تک نہ دے سکیں تو اس کے یہ معنی نہیں ہو نگے کہ اب اس کا دینا ہم پر واجب نہیں رہا۔ہم نے جو وعدہ کیا ہے وہ بہر حال قائم ہے اور اس کا پورا کرنا واجب