خطبات محمود (جلد 12) — Page 60
خطبات محمود ۶۰ سال ۱۹۲۹ء دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذمہ غرباء کی خبر گیری رکھی ہے مگر عام حالت میں انہیں اس کا احساس نہیں ہوتا انہیں پتہ نہیں لگ سکتا کہ بھو کے انسان کو کس قدر تکلیف ہوتی ہے۔روزے کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں بھوک پیاس سے واقف کراتا ہے اور انہیں محسوس کراتا ہے کہ فاقہ کرنے والے کس تکلیف میں ہوتے ہیں تا وہ غرباء کی خبر گیری کی طرف متوجہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ رمضان میں بہت زیادہ خیرات کیا کرتے تھے۔حدیث میں آتا ہے کہ رمضان کے دنوں میں رسول کریم یہ تیز چلنے والی آندھی کی طرح صدقہ کیا کرتے تھے۔اس طرح امراء کے لئے بھی روزہ حصول تقویٰ کا ایک ذریعہ ہے اور اس سے دلوں میں غرباء کی خبر گیری کا شوق پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح روزے قوم میں قربانی کی عادت پیدا کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔دین کی خدمت کے لئے جہاد کی بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے جبکہ گھروں سے باہر نکلنا پڑتا ہے اور جہاد میں کھانے پینے کی تکلیف کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔غرباء کو تو ایسی تکالیف کی برداشت کی عادت ہو سکتی ہے مگر امراء کو اس کا عادی ہونے کا موقع نہیں مل سکتا۔پس روزوں کے ذریعہ ان کو بھی بھوک اور پیاس کی برداشت کی مشق کرائی جاتی ہے۔جیسے گورنمنٹ نے ایک ٹریٹوریل فوج بنا رکھی ہے جسے ہر سال میں ایک ماہ کے لئے بلا کر قواعد پر یڈ سکھائے جاتے ہیں تا ضرورت کے وقت وہ بآسانی فوجی آدمی بن سکیں۔اسی طرح رمضان کے روزے بھی مسلمانوں کے لئے ٹریٹوریل کی مشق کے دن ہوتے ہیں اور دنیا کے تمام مسلمانوں سے ایک ہی وقت میں مشقت کی برداشت کی مشق کرائی جاتی ہے، خواہ کوئی شہنشاہ ہو یا غریب تا جس دن خدا کی طرف سے آواز آئے کہ اے مسلمانو! آؤ اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو۔تو وہ سب اکٹھے اُٹھ کھڑے ہوں۔روزے میں انسان کو کھانے کی کمی، نیند کی کمی اور رشتہ داروں سے تعلقات کی کمی کی عادت کرائی جاتی ہے۔کیونکہ روزہ میں بیوی سے بھی علیحدہ رہنا پڑتا ہے اور یہی وہ چیزیں ہیں جن سے جہاد میں سابقہ پڑتا ہے۔پس روزہ کے ذریعہ مسلمانوں کو مشق کرائی جاتی ہے تا جب ضرورت پیش آوے وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کر سکیں جس طرح کہ ٹریٹوریل کی مشق ہوتی ہے۔وہاں تو جو بھرتی ہوا سے ہی مشق کرائی جاتی ہے لیکن یہاں جو بھی مسلمان ہے اسے یہ مشق ضرور کرنی پڑتی ہے اس کے اندر اور بھی بہت سی خوبیاں اور فوائد ہیں لیکن میں چونکہ زیادہ دیر کھڑا نہیں ہوسکتا اور اتنا کھڑا ہونے سے ہی مجھے تکلیف ہوگئی ہے اس لئے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔