خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 536

خطبات محمود ۵۳۶ سال ۱۹۳۰ لا ؤ مگر وہ گھوڑروں پر چڑھ کر دور نکل گئے تھے۔سے مگر دیکھو۔انہی لوگوں نے جنہیں دنیا ذلیل سمجھتی تھی دنیا میں کیا کیا کار ہائے نمایاں کئے اور اس قدر عروج حاصل کیا۔یہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں پھر تعجب ہے کہ جماعت کے لوگوں کو کیوں یہ خیال نہیں آتا کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں چُنا ہے اس لئے ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔ہم میں سے کتنے ہیں جو مایوس ہیں کتنے ہیں جن کو خیال ہے کہ ہمارے اندر کچھ قابلیت نہیں مگر اس سے زیادہ بے ادبی اور گستاخی کیا ہو سکتی ہے کہ خدا کہتا ہے تم دنیا کو فتح کرو گے لیکن تم کہتے ہو نہیں ہم نہیں کر سکتے۔غور تو کر وکب خدا نے کسی قوم کو اس لئے پتا کہ وہ دنیا کو فتح کرے گی اور اس نے نئی زمین اور نیا آسمان نہ پیدا کر دیا۔کیا اب خدا تعالیٰ ( نَعُوذُ بِاللهِ ) بوڑھا ہو گیا ہے کہ اس کی قوت انتخاب کمزور ہوگئی ہے۔اس نے حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت کرشن حضرت رام چندر حضرت بدھ حضرت موسی ، حضرت عیسی اور حضرت محمد علیہ کے ذریعہ قوموں کو چنا اور وہ کامیاب ہوئیں پھر کیا اب خدا کی عقل کمزور ہو گئی ہے کہ اس نے ہم کو چنا اور ہم ناکام رہ جائیں گے۔انتہائی درجہ کی بے ایمانی اور بے وقوفی ہے۔اللہ تعالیٰ جسے چتا ہے اس کے متعلق فرماتا ہے۔وَلَقَدِ احترتهُم عَلى عِلْمٍ عَلَى الْعَلَمِینَ۔کہ ہم جس قوم کو چُنتے ہیں وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے۔خدا تعالی کی کسی سے رشتہ داری نہیں۔بعض اوقات رشتہ داروں کو لوگ چن لیتے ہیں۔کہتے ہیں کسی بادشاہ نے ایک حبشی کو ایک ٹوپی دی اور کہا سب سے زیادہ خوبصورت بچہ کے سر پر پہنا دو۔اس نے اپنے بچہ کو جو نہایت بدصورت اور غلیظ تھا پہنا دی۔بادشاہ نے پوچھا یہ کیا؟ اُس نے جواب دیا کہ مجھے یہی خوبصورت نظر آتا ہے۔تو اگر اللہ تعالیٰ ہمارا رشتہ دار ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اس وجہ سے اُس نے ہمیں منتخب کر لیا ہے مگر جب اس کا ساری دنیا سے یکساں معاملہ ہے اور ہم بظاہر سب سے زیادہ ضعیف کمزور اور غریب تھے، ہم میں نظام کی کمی تھی سب سے کم قربانی کا مادہ تھا، کم عقل تھے مگر باوجود ان سب باتوں کے خدا تعالیٰ نے ہمیں چنا ہے پھر کس طرح خیال | کر سکتے ہو کہ اُس نے غلطی کی ہے اور ہمارے اندر وہ قابلیت نہیں جس سے دنیا فتح کی جا سکتی ہے۔یقیناً ہمارے اندر قابلیت ہے اور جو اس کا انکار کرتا ہے وہ بے ایمان ہے، جھوٹا ہے اور اُس کا دل تاریکیوں میں مبتلاء ہے۔خدا تعالیٰ جب کسی کو چنتا ہے تو اس کی قابلیت کی شہادت وہ خود دیتا ہے مگر جب کوئی قابلیت کا انکار کرتا ہے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ خود اپنی قابلیت کو