خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 528

خطبات محمود ۵۲۸ سال ۱۹۳۰ء اس کی مثال ایسی ہے۔کہتے ہیں کسی زمیندار سے جسے بہت زیادہ کھانے کی عادت تھی ایک شخص نے کہا۔طبیبوں نے لکھا ہے پیٹ کے تین حصے ہوتے ہیں ایک روٹی کے لئے ایک پانی کے لئے اور ایک سانس کے لئے۔زمیندار نے کہا ہم یہ نہیں مانتے ہمارا تو یہ طریق ہے کہ پیٹ بھر کے روٹی کھا لیتے ہیں پانی اپنی جگہ خود نکال لیتا ہے باقی رہا سانس اس کے متعلق اس کا پنجابی کا محاورہ ہی لطف دے سکتا ہے۔اُس نے کہا۔ایہہ سوہرا آئے آئے۔نہ آئے نہ آئے اس دی کی لوڑاے۔یعنی سانس آئے نہ آئے اس کی کیا ضرورت ہے اگر روٹی نہ کھائی تو پھر کیا کرنا ہے۔حالانکہ سب سے مقدم سانس ہی ہوتا ہے۔یہی حال ظاہری ادب کا ہے وہ آپ ہی آ جاتا ہے اصل چیز دلوں پر قبضہ کرنا ہے اگر یہ کر لیں تو ظاہر آپ ہی آپ درست ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے قلوب اور نفوس کی اصلاح کر سکیں جو ترقی کی جڑھ ہے۔ہم اپنے نفوس میں بھی اور اپنے بھائیوں کے نفوس میں بھی اپنے بڑوں کے نفوس میں بھی اور اپنے چھوٹوں کے نفوس میں بھی تبدیلی پیدا کر سکیں۔المتفقون: ۲ بخاری کتاب القدر باب العمل بالخواتيم بخارى كتاب الجهاد باب لا يقول فلان شهيد النحل : ١٠٧ ( الفضل ۱۱۔دسمبر ۱۹۳۰ء)