خطبات محمود (جلد 12) — Page 526
خطبات محمود ۵۲۶ سال ۱۹۳۰ء سے ایک حد تک انہیں تکلیف تو ہوتی ہوگی یہ میں تسلیم کرتا ہوں مگر انہیں میری مصروفیات کی اطلاع دینے والے کے لئے ضروری ہے کہ جتنی زیادہ سے زیادہ نرمی اختیار کر سکتا ہو ا ختیار کرے انہیں بتائے اور سمجھائے کہ مجھے اور کام بھی ہیں ان میں بھی مجھے وقت صرف کرنا ہوتا ہے۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ کام کرنے والے احساسات کا اس طرح خیال رکھیں کہ اپنا اصل فرض ہی بھول جائیں اس طرح کا ہر دلعزیز بھی کوئی کام نہیں کر سکتا۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک ہر دلعزیز تھا جو دریا کے کنارے بیٹھا رہتا اور جو لوگ اسے دریا سے پار اُتارنے کے لئے کہتے انہیں پارلے جاتا۔ایک دفعہ وہ ایک شخص کو اُٹھا کر پار لے جارہا تھا اور ابھی دریا کے نصف میں ہی گیا تھا کہ ایک اور نے اُسے کہا مجھے بہت ضروری کام ہے مجھے جلدی لے جانا۔اس نے پہلے شخص کو اُسی جگہ رکھا اور دوسرے کو لینے کے لئے واپس آ گیا۔جب اُسے لے کر گیا تو ایک تیسرے نے کہا کہ مجھے بہت جلدی جانا ہے مجھے لے جاؤ۔دوسرے کو بھی پانی میں رکھ کر واپس آ گیا اور تیسرے کو لے چلا۔ان میں سے تیرنا کوئی بھی نہ جانتا تھا پانی کا جو ایک ریلا آیا تو پہلے نے کہا میاں ہر دلعزیز مجھے بچانا۔جسے اُس نے اُٹھایا ہوا تھا اسے پانی میں رکھ کر پہلے کو بچانے کے لئے دوڑا اُس تک ابھی پہنچا نہ تھا کہ تینوں ڈوب گئے۔تو احساسات کا لحاظ رکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اپنے فرائض کو بُھول جائے بلکہ یہ ہے کہ فرائض ادا کرتے ہوئے جتنا خیال رکھ سکتا ہور کھے۔اگر کسی بات کا انکار کرو تو اس طرح نہیں کہ تم افسر ہو بلکہ اس طرح کہ بھائی ہوتا کہ بڑا اور چھوٹا‘ امیر اور غریب عالم اور جاہل کا احساس اس طرح مٹ جائے کہ کسی کی زبان پر نہ آئے۔کوئی ایک شخص ایسا نہیں کر سکتا۔اور اُس وقت تک ایسا نہیں ہو سکتا جب تک بڑے اور چھوٹے افسر اور ماتحت عالم اور جاہل نہ مل جائیں۔ایک دانہ ایک شخص کا پیٹ نہیں بھر سکتا تو لاکھوں کا کہاں بھر سکتا ہے۔یہ کام ساری جماعت کے کرنے کا ہے اور ساری جماعت کو ہی کرنا چاہئے مگر وہ جنہیں دنیا میں افسر کہا جاتا ہے انہیں چاہئے کہ نمونہ بنیں تا کہ جو ماتحت کام کرنے والے ہیں وہ دوسروں کے لئے نمونہ بنیں اور اس طرح جماعت سے بڑے اور چھوٹے افسر اور ماتحت کا احساس مٹ جائے۔بے شک دلوں اور عادات کا بدلنا بہت بڑی قربانی چاہتا ہے اور اس کے لئے نفس پر چُھری رکھنی پڑتی ہے لیکن بتاؤ کب تک اس نفس کو زندہ رہنے دو گے۔جب تک تم نفس کے گلے پر چھری نہیں رکھو گے دنیا کو فتح بھی نہیں کر سکو گے۔ہم کہتے ہیں ہم دنیا میں