خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 515

خطبات محمود ۵۱۵ سال سے ہی یہ غلطی ہو گئی تھی اور میں خود شرمندہ ہوں۔پس جب پتہ لگ جائے کہ یہ ایک مشکل پیش آتی ہے تو کارکنوں کو اِس سے مطلع کرنا چاہئے اور بتانا چاہئے کہ یہ صورت پیش آئے تو یوں کرنا صرف قانون بنا دینے سے کام نہیں چلا کرتے۔چونکہ استثنائی صورتیں بھی پیدا ہو جایا کرتی ہیں اس لئے خود ایسے سوالات پیدا کر کے کہ اگر انتظام میں یہ بات پیدا ہو تو تم کیا کرو گے انہیں جواب سکھانے چاہئیں۔مثلاً ایک شخص کو ایک مقام پر پہرہ دار مقرر کیا گیا ہے اب اس کے پاس ایک عورت آتی ہے کہ میرا بچہ کم ہو گیا ہے اس موقع پر اسے کیا کرنا چاہئے۔ہمیں بتانا چاہئے کہ وہ اس وقت اپنے مقام سے ہے یا نہیں اور اگر نہ ہے تو اُس عورت کی تسلی کے لئے اُسے کیا کرنا چاہئے۔تو ہر مشکل جو پیش آ سکتی ہے اُس کے جوابات سکھانے اور یاد کرانے چاہئیں۔اسی طرح اقتصاد کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔پچھلے جلسہ کے موقع پر بھی میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی مجھے بتایا گیا کہ معمولی سی بات کا غذ کے پوری شیٹ پر لکھی جاتی تھی حالانکہ گورنمنٹ بھی اب تو کفایت سے کام لینے لگی ہے۔ایک لفافہ کو سرکاری دفاتر میں کئی بار استعمال کیا جاتا ہے۔جب ہمارے لئے تنگی کا زمانہ ہے تو ہمارے دوستوں کو بھی ہر کام میں کفایت شعاری سے کام لینا چاہئے کاغذ ا کٹھے اور با کفایت خریدے جائیں اور سوائے اس کے پورے کا غذ پر لکھنا ہو پوری شیٹ استعمال نہ کی جائے بلکہ سلمیں بنائی جائیں۔حضرت خلیفہ اول مستعمل لفافوں سے ہی بہت سے کام لے لیا کرتے تھے اور انہی پر رقعہ جات وغیرہ لکھ دیا کرتے تھے۔اس زمانہ کے نو تعلیم یافتہ لوگ تو اسے شاید نسٹ کہیں مگر قومی کاموں کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے یہ خشت نہیں بلکہ درد دلی پر دلالت ) کرنے والی بات ہے۔یہ خدائی روپیہ ہے کیونکہ ثواب کے لئے دیا جاتا ہے اس لئے اپنے روپیہ سے بہت زیادہ حفاظت اس کی کرنی چاہئے اور ہر شعبہ میں کفایت سے کام لینا چاہئے مگر اس طرح نہیں کہ مہمان کو تکلیف پہنچے بلکہ ایسے طریق پر کہ خرچ کم سے کم ہو اور مہمان کو آرام زیادہ سے زیادہ مل سکے۔دوسری بات مالی پہلو ہے۔میں نے جلسہ سالانہ کے چندہ کے لئے پہلے سے تحریک کردی تھی اور اس وقت تک تقریبا پندرہ ہزار روپیہ آچکا ہے مگر اس سے زیادہ رقم کی ضرورت ہے پچھلے سال اکیس ہزار خرچ ہوا تھا۔زمیندار جماعتوں کی رقوم ابھی تک نہیں آئیں کیونکہ وہ گڑ اور