خطبات محمود (جلد 12) — Page 511
خطبات محمود ۵۱۱ سال قبر ہے اس سے ورے مسجد کے فرش کی منڈی تھی اُس وقت مسجد کا صحن موجودہ صحن سے بہت چھوٹا تھا اس پر لوگ بیٹھے تھے اور مسجد کے درمیانے در میں کرسی پر بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقریر فرمائی تھی۔ہم اس منڈیر پر بیٹھے تھے اور اُس وقت کی مسجد بالکل پر تھی اور تمام احباب اس ذوق شوق سے لبریز تھے کہ خدا تعالی کی پیشگوئیوں کے ماتحت جماعت اب بہت پھیل گئی ہے مگر آج نماز جمعہ کے لئے ہم اُس وقت سے تین گنا زیادہ یہاں جمع ہیں۔دنیا نے اپنی سار کی طاقت کے ساتھ اس کے ہر مذہب کے افراد نے ہر مذہب کے علماء وامراء نے ہر مذہب کے غرباء نے صوفیاء نے اور ہر مذہب کے مردوں اور عورتوں نے زور لگایا اور پورا زور لگایا کہ سلسلہ کی اشاعت کو روک دیں۔اس کے لئے فریب اور جھوٹ سے کام لیا گیا، طرح طرح کی گندی باتوں کی اشاعت سے کام لیا اور جس قدر ممکن طریق اس کے لئے ان کے ذہن میں آ سکتے تھے استعمال کئے مگر جس طرح دریا کا پانی ہاتھ سے نہیں روکا جا سکتا اور جس طرح موٹی ریت جو ٹھی میں پکڑی جائے انگلیوں سے پھسل پھسل کر نکل جاتی ہے۔بعینہ اکابر علماء و صوفیاء کی مٹھیوں سے نکل نکل کر وہ نور پھیلنا شروع ہوا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے تھے اور آخر کار تمام دنیا میں پھیل گیا اور دنیا نے پھر ایک نشان دیکھا ایسا ہی جیسا کہ حضرت نوح ، حضرت ابراہیم حضرت موسیٰ اور محمد رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دیکھا تھا۔تعقب اب بھی موجود ہے کینہ و بغض اب بھی ہے لیکن دل محسوس کرتے ہیں کہ جو ہونا تھا ہو چکا۔گو دنیا اب بھی ہمیں چھوٹا بجھتی ہے مگر یہ یقین ضرور رکھتی ہے کہ یہ چھوٹی چیز بڑی ہونے والی جماعت ہے۔بہت ہیں جن کے دلوں میں سے کینہ اور بغض نکل گیا ہے اور وہ عزت' ادب اور احترام کی نگاہ سے ہماری جماعت کو دیکھنے لگے ہیں۔عقائد اور مذہب اور طریق عمل میں بے شک اختلاف ہے مگر اس کا اعتراف کہ کام کرنے والی جماعت یہی ہے سب کو ہے۔آخر یہ بھی تو ایک اقرار ہے اور اس کے معنی یہی ہیں کہ دریا نے سیم لگانی شروع کر دی ہے۔جن علاقوں میں نہریں ہیں وہاں کے رہنے والوں نے دیکھا ہوگا کہ نہر کا پانی ارد گرد کی زمین سے پھوٹ پھوٹ کر بہنے لگ جاتا ہے۔وہ نہر تو نہیں ہوتی مگر نہر کی شکل اس زمین میں پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح لاکھوں کروڑوں دلوں میں سیم لگ چکی ہے۔وہ احمدی تو نہیں مگر احمدیت کی خدمات کے اعتراف کے سوا انہیں کوئی چارہ نہیں۔مگر سوچنا چاہئے ہم کون ہیں۔اگر ہم میں سے ہر ایک اپنے