خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 503

بات محمود سال ۱۹۳۰ء کے مطابق ہی کام کرتا ہے۔بندہ روزہ کی حالت میں دعائیں کرتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنی بعض صفات کو روکنے کے وقت دعا ئیں زیادہ قبول کرتا ہے اور اس کے معنے دراصل یہی ہوتے ہیں کہ بندہ زیادہ دعائیں کرے اور جب خدا تعالیٰ خود ایسے سامان پیدا کرے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ دعائیں کریں تو پھر وہ دعائیں سنتا بھی زیادہ ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ آج کل کے ایام بھی کچھ ایسے ہی ہیں ایک طرف ملک کی مالی حالت خراب ہو رہی ہے۔ہندوستان کی اتنی (۸۰) فیصدی آبادی زمیندار ہے دو تین سال قبل تو غلہ کی کمی نے اسے تکلیف میں رکھا اور اس سال غلہ کی زیادتی زمینداروں کے لئے مصیبت کا باعث ہو گئی ہے۔اور ظاہر ہے کہ جس ملک کی اسی (۸۰) فیصدی آبادی کمزور ہو باقی میں فیصدی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ایک طرف تو یہ تباہی نَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ" کی صورت میں ظاہر ہورہی ہے اور دوسری طرف نَقْصٍ مِّنَ الأنْفُسِ بھی ہے۔ان دنوں میں عام طور پر باہر سے دوستوں کی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ عام طور پر بیماری پھیلی ہوئی ہے بعض دنوں میں دو دو تین تین تار بیماری یا فوتیدگی کے آجاتے ہیں اور اگر تاروں میں وقفہ ہو تو خطوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں بیماری کا عام حملہ ہے۔بڑی قو میں جن کو یہ فکر ہو کہ ہمارے آدمی زیادہ ہو گئے ہیں وہ کھائیں گے کہاں سے۔ان کے اگر چند نفوس مر جائیں تو انہیں اتنا فکر نہیں ہوتا کیونکہ بہت پھیلا ہوا درخت آخر چھانٹا جاتا ہے۔مگر وہ منفی کو نیل جو اکیلی ہی باہر نکلی ہوا سے چھانٹنے کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ اس کا خاتمہ کر دیا جائے اس لئے چھوٹی جماعتوں کے ہر فرد کی جان بہت قیمتی ہوتی ہے۔پس ایسے وقت میں جب الہی منشاء کے ماتحت بیماری پھیلی ہوئی ہے زیادہ لوگوں کا بیمار ہونا بتا تا ہے کہ یہ الہی سامان ہیں۔دنیا میں یوں بھی لوگ بیمار ہوتے ہیں مگر اس کی یہی صورت ہے کہ اگر کسی نے آنکھ کو غلط طور پر استعمال کیا تو آنکھ دُکھ گئی، اگر کسی نے اعصاب کا خیال نہ رکھا تو وہ کمزور ہو گئے یا بد پر ہیزی سے معدہ خراب ہو گیا ایسے امراض کی ذمہ داری افراد پر ہوتی ہے مگر جب سارے ملک میں عام طور پر بیماری پھیلی ہوئی ہو تو اس کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ یہ سب کچھ الہی سامانوں کے ماتحت ہو رہا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض مخفی سامانوں کے ماتحت ان دنوں خدا تعالیٰ کی قیوم اور شافی کی