خطبات محمود (جلد 12) — Page 465
خطبات محمود ۴۶۵ سال ۱۹۳۰ء ان سے کیا تعلق؟ اور ہماری جماعت میں سے کئی دوستوں کا یہ خیال ہے بھی۔چنانچہ جب بھی کسی ایسے معاملہ میں جو بلحاظ فوائد مشترک ہوتا ہے ہم نے دخل دیا جماعت کا ایک حصہ اس پر معترض ہو ایا اگر اعتراض کا لفظ سخت ہو تو میں یہ کہوں گا کہ اس نے مشورہ دیا کہ ہمیں ان سے بالکل علیحدہ رہنا چاہئے۔لیکن دوسری طرف ایک اور نقطہ نگاہ ہے اور وہ یہ کہ ان لوگوں سے مذہبی لحاظ سے گو ہمارے تعلقات ایسے نہیں کہ ایک کا دُکھ دوسرے کو محسوس ہو یعنی ہم خدا کے سلوک میں مشترک ہو جائیں۔میرا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انہیں کوئی تکلیف پہنچے تو ہمیں دکھ نہیں ہوتا بلکہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں کوئی گرفت ہو تو ہم بھی اس میں شریک ہوں یہ نہیں ہو سکتا۔الہبی سزا کے طور پر اگر ان پر کوئی مصیبت نازل ہو تو ہم اس سے مستثنیٰ ہوں گے لیکن سیاسی طور پڑیا تمدنی طور پر جو باتیں ہیں ان میں ہم ان سے کسی صورت میں بھی علیحدہ نہیں ہو سکتے۔اس نقطہ نگاہ کے ماتحت ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر ان کو کوئی تکلیف یا مصیبت پہنچے تو ہم اس میں ان کے شریک ہوں گے۔پس دنیوی لحاظ سے ہم ان کی عزت اور ذلت میں بھی شریک ہیں اس لئے ان کی حالت پر آنکھیں بند کر کے نہیں بیٹھ سکتے۔یہ دو مختلف نقطہ ہائے نگاہ ہیں اور ہماری جماعت میں دونوں قسم کے خیالات رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔میرا اپنا جیسا کہ کئی دفعہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں یہی خیال ہے کہ الہی سلوک میں تو بے شک ہم دونوں مشترک نہیں۔خدا تعالیٰ کا جو سلوک ہم سے ہے ان سے نہیں اور جو اُن سے ہے ہم سے نہیں لیکن دنیا کے سلوک میں ہم دونوں میں کوئی فرق نہیں۔روحانیت کے جس رتبہ پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فائز کیا ہے اور اسلام کے جس مقام پر ہمیں کھڑا کیا ہے انہیں وہ حاصل نہیں لیکن ایک ہندو یا ایک عیسائی جس مقام پر انہیں سمجھتا ہے اسی مقام پر ہمیں بھی سمجھتا ہے۔دراصل مسلمان کی دو تعریفیں ہیں ایک حقیقت کے لحاظ سے اور ایک نام کے لحاظ حقیقت کے لحاظ سے وہ تعریف ہے جو اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ہر جماعت اپنے متعلق یہ خیال کرتی ہے کہ روحانیت کا جو مرتبہ ہمیں حاصل ہے وہ دوسرے کو نہیں اور یہ ایک ایسی بات ہے جس پر کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں کیونکہ اگر یہ خیال نہ ہو تو پھر کسی کو علیحدہ جماعت قائم کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔شیعہ سنی اور دیگر فرقوں کی موجودگی کے معنے ہی یہ ہیں کہ ہر ایک فرقہ سے۔