خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 403

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء اور پھر وہ چیز بھی جسے ہم نے بچانا ہے اس قدر اہم ہے کہ انسان کی پیدائش کی غرض ہی وہی ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ العني انسانی پیدائش کا حقیقی مقصد عبادت ہی ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ حقیقی عبادت اسلام کے سوا اور کسی مذہب میں نہیں۔عیسائی گرجا میں جاتے ہیں اور تھوڑی دیر وہاں گا بجا کر گھر کو چلے آتے ہیں۔ہندوؤں اور سکھوں کی بھی یہی عبادتیں ہیں کہ ڈھول اور باجا وغیرہ کچھ عرصہ کے لئے بجاتے اور ساتھ گاتے رہے۔یہ چیزیں لذت نفس ہیں مجاہدہ نہیں کہلا سکتیں۔اس میں کیا عبادت ہے کہ آٹھویں دن دوست احباب کے ساتھ آرام سے کچھ دیر بیٹھ کر گانا بجانا سنا اور گھروں کو چلے گئے۔یہ تو محض لذت نفس ہے اور بغیر پیسہ خرچ کئے تھیڑ دیکھنا ہے۔پیسے خرچ کر کے تھیڑ میں نہ گئے عبادت گاہ میں جا کر گانے بجانے کا لطف اُٹھا لیا۔لیکن باوجود اس کے کہ یہ عبادتیں محض لذت کے سامان ہیں مگر پھر بھی گر جے خالی ہیں کیونکہ اگر چہ ان میں لذت کے سامان موجود ہیں مگر اتنے نہیں جتنے دوسری جگہ مل سکتے ہیں۔اسی طرح مندروں اور گوردواروں میں بھی لذت کے سامان موجود ہیں مگر وہاں بھی لوگ نہیں جاتے۔پھر یہ بھی کوئی عبادت ہے کہ لاکھوں آدمی اللہ آباد میں جمع ہوئے اور دریا میں غسل کر آئے یہ تو ایک ٹرپ ہے جیسے یہاں کے لوگ نہر پر ٹرپ کے لئے جاتے ہیں۔اگر نہر پر جا کر نہانے اور تفریح کا نام ہی عبادت رکھ دیا جائے تو وہ لوگ بھی جو نمازوں وغیرہ کی ادائیگی میں باقاعدہ نہیں پکے عابد بن جائیں گے اور فورا آ کر کہیں گے ہم سے سخت غلطی ہوئی نماز میں سستی کرتے تھے اب تو بہ کرتے ہیں اور بڑی خوشی سے ٹرپ میں شامل ہوتے ہیں۔تو الہ آباد جا کر نہانا بھی ایک ٹرپ تو ہے لیکن عبادت نہیں۔عبادت وہ ہے جو اسلام نے رکھی ہے۔پانچ وقت نما ز سب کے لئے فرض ہے جو کامل سکوت اور خاموشی کے ساتھ مسجد میں جا کر ادا کی جاتی ہے اور جس میں دنیوی لذت کا قطعاً کوئی سامان نہیں۔پھر اس کے اندر ایسے الفاظ رکھے گئے ہیں جن میں خدا تعالیٰ کی عظمت، بڑائی اور کبریائی کا بیان ہے یہ نہیں کہ اشعار پڑھ لئے۔پھر انسان پر سُر کا بھی خوشگوار اثر ہوتا ہے مگر وہ سر سے بھی خالی ہے۔پھر روزے ہیں یہ نہیں کہ جس کی مرضی ہو رکھ لے جیسے ہندوؤں میں ہے ان کے ہاں بھی کچھ روزے مقرر ہیں مگر فرض نہیں جس کی مرضی ہو ر کھے اور جو نہ چاہے نہ رکھے اور جو ر کھتے ہیں ان کے لئے صرف یہ قید ہے کہ چولہے کی پکی ہوئی چیز نہیں کھانی باقی جو جی چاہے کھاتے رہو۔دنیا جہان کے میوے کھا جاؤ