خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 381

خطبات محمود ٣٨١ مطلوب ہے اور ہندوستان ویسا ہی ہمارا ملک ہے جیسا ان لوگوں کا ہے اور اپنے وطن کی محبت اور آزادی خیال اسی طرح ہمارے سینوں میں بھی موجزن ہے جس طرح ان کے سینوں میں ہے اس لئے ہم یہ سننے کے لئے کبھی آمادہ نہیں ہو سکتے کہ ہمارے دلوں میں ہندوستان کی محبت نہیں یا وہ لوگ اس بارے میں ہم سے بڑھے ہوئے سمجھے جائیں۔لیکن دوسری طرف ہم اس بات سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ ہمارا ملک ہندوستان انگریزوں کے ماتحت ہے۔انگریزوں نے یہاں آکر جبرا قبضہ کر لیا یا رضامندی سے انگریز یہاں خود بخود آکر قابض ہو گئے یا بلائے ہوئے آئے وہ ہندوستان کا مال و دولت کھینچ کر اپنے ملک میں لے گئے یا ہمیں فائدہ پہنچا رہے ہیں ان باتوں سے قطع نظر کرتے ہوئے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ستر ہویں صدی سے ہندوستان میں آئے اور اُنیسویں صدی سے بلکہ اٹھارہویں صدی سے ہی انہیں ہندوستان کی حکومت میں حصہ مل گیا اور اب وہ سارے ہندوستان پر قابض ہیں۔پس اس سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ قانون کے مطابق ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت قائم ہے اور کوئی دوسری حکومت جو انگریزوں کے منشاء اور سمجھوتہ کے بغیر قائم ہو وہ قانونی حکومت نہیں کہلا سکتی۔قانونی حکومت وہی کہلائے گی جو اس قائم شدہ حکومت کے سمجھوتہ سے قائم ہو بشرطیکہ اس سمجھوتہ میں کسی قوم کو بیچ نہ دیا گیا ہو۔پس ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت قائم ہے اور از روئے قانون قائم ہے اس سے سمجھوتہ کر کے ہی کوئی اور حکومت قائم ہو سکتی ہے بشرطیکہ ایسا سمجھوتہ کرتے ہوئے انگریز کسی قوم کو بیچ نہ دیں ورنہ جنگ و جدال کا بازار گرم ہو جائے گا اور ملک میں بدامنی اور تباہی پھیل جائے گی۔ہم دیکھتے ہیں کہ انگریزوں نے کچھ عرصہ سے اہلِ ہند کو اختیارات دینے شروع کئے ہیں اور سائمن کمیشن اسی غرض کے لئے مقرر کیا گیا تھا کہ دیکھا جائے مزید اختیارات کس حد تک دیئے جا سکتے ہیں۔ادھر ہندوستان میں اس حد تک بیداری، تعلیم، آزادی کا احساس پیدا ہو چکا ہے اور دوسرے ملک اس طرح آزاد ہورہے ہیں کہ اب ہندوستانی خاموش بیٹھ نہیں سکتے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ دنیا کی آبادی کا ۱۱۴ حصہ غیر محدود اور غیر معین عرصہ تک ایک غیر ملکی حکومت کی اطاعت گوارا کر سکے۔اگر یہ مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ملک عقلمندی اور مصلحت اور دور اندیشی کے تمام قوانین کو توڑنے کے لئے کھڑا ہو جائے گا اور خواہ