خطبات محمود (جلد 12) — Page 379
خطبات محمود ۳۷۹ ۴۹ سال ۱۹۳۰ء موجودہ سیاسی شورش اور مسلمانوں کیلئے صحیح طریق عمل (فرموده ۲ مئی ۱۹۳۰ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: پیشتر اس کے کہ میں اس مضمون کو شروع کروں جو آج کے خطبہ کے لئے میں نے ضروری سمجھا ہے۔میں اپنی جماعت کے دوستوں کو خصوصیت سے اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ان دنوں جبکہ انہوں نے روزے رکھنے شروع کئے ہیں اور ہم میں خدا کے فضل سے اس انتظام کے ماتحت جو میں نے تجویز کیا ہے کہ تمیں یا چالیس روز تک ہر پیر کو روزہ رکھا جائے ہزاروں آدمی روزے رکھ رہے ہیں اور امید ہے جتنے لوگ روزہ رکھ سکیں گے آئندہ بھی رکھیں گے۔وہ خاص طور پر دعائیں بھی کریں کہ خدا تعالیٰ اپنا فضل نازل کرے اور جو مشکلات ہمارے راستہ میں حائل ہیں انہیں دور کر دے۔خدا تعالیٰ کی قدرتیں اور غیر تیں ہماری قدرتوں اور غیرتوں سے بڑھ کر ہیں اور اس کی نگاہ انتخاب ہماری نگاہ انتخاب سے زیادہ حقیقی اور درست ہے اس لئے جو فیصلہ وہ کرے گا وہی بہترین ہوگا۔پھر خصوصیت سے ان دوستوں کے لئے دعا کرنی چاہئے جو کہ ان فتن میں کسی نہ کسی وجہ سے مبتلاء ہیں اور مختلف قسم کی تکالیف میں سے گزر رہے ہیں۔بعض پر مقدمات دائر ہیں بعض مختلف مقامات پر مشکلات اور تکالیف میں سے گزر رہے ہیں۔ایک مقدمہ تو آج عدالت میں پیش بھی ہے۔قانون اس کے متعلق اجازت نہیں دیتا کہ ہم کچھ کہیں مگر وہ واقعات چونکہ ہمارے سامنے ہوئے ہیں اور ہماری آنکھوں نے دیکھے ہیں اس لئے اس بارے میں ہمارے دل تسکمی یافتہ ہیں۔ہم نہیں جانتے عدالت اس مقدمہ میں کیا فیصلہ کرے گی