خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 366

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء بھی ہے۔پہلا موقع گورنمنٹ کو دیا جائے گا کہ امن قائم کرنے اگر حکام کہیں گے کہ قیام امن میں ہماری مدد کرو تو ہم بخوشی کریں گے اور اگر وہ کہہ دیں گے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے تم خود انتظام کرلو خود کر کے دکھا ئیں گے۔مؤمن جس وقت کھڑا ہوتا ہے تو وہ اکیلا نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ فرشتے ہو ا کرتے ہیں۔لوگوں کو وہ ایک ہاتھ نظر آتا ہے لیکن اس کے ساتھ کم از کم 9 فرشتوں کے ہاتھ اور ہوتے ہیں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مؤمن دس پر بھاری ہوتا ہے۔سکے مگر ایک تو دس پر بھاری نہیں ہوسکتا اس کے یہی معنی ہیں کہ ایک مؤمن کے ساتھ 9 فرشتے ہوتے ہیں۔تو مؤمن کی تائید میں ملائکہ بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور جس وقت یہ میدان میں آتا ہے تو دنیا حیران رہ جاتی ہے کہ یہ صوفی لوگ جنہیں بات بھی کرنی نہ آتی تھی اور لڑائی کا نام بھی نہ جانتے تھے کس طرح دنیا کو آگے بھگائے لئے جا رہے ہیں۔اس لئے جتھوں کو زیادہ اہمیت نہ دو کیونکہ اس سے بھی گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے اور بہادر کو گھبرانا نہیں چاہئے اپنے نفس میں تیاری کرنی چاہئے پھر جو آتا ہے اسے آنے دو۔ہم تو اللہ تعالیٰ سے یہی دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں فتنوں سے بچائے لیکن اگر اسی طرح وہ ہما را امتحان لینا چاہتا ہے تو ہم کہتے ہیں راضی ہیں ہم اُسی میں جس میں تیری رضا ہو۔اول تو یہ افواہ ہی غلط ہے جو شرفاء ہیں وہ رزیلوں اور کمینوں کے ساتھ کبھی نہیں مل سکتے اور کمینہ لوگ نہایت بُزدل ہوتے ہیں اور بہادری ان میں قطعا نہیں ہوتی لیکن اگر وہ آئیں اور انہیں عواقب کی کوئی پرواہ نہ ہو تو انہیں آنے دو بلکہ پہلے حملہ کرنے دو اس صورت میں سلسلہ کی عظمت کے لئے میں بھی تمہارے ساتھ ہوں گا۔مگر میں ایسے لوگوں کو خوب جانتا ہوں ان کی تو یہ حالت ہے کہ اگر دس سپاہی بھی آگے ہوں تو فورا کہ دیں گے ہم تو محض اللہ اکبر کے نعرے لگانے کے لئے آئے ہیں بلکہ ایک بھی سپاہی ہو تو اس قسم کے لوگ ڈر جاتے ہیں۔ان کی قربانیوں کے دعوؤں کی مثال اس عورت کی طرح ہوتی ہے جو ہمیشہ دعا کرتی تھی کہ میں مرجاؤں لیکن میری بیٹی نہ مرے۔ایک دن گائے کی گردن میں گھڑا پھنس گیا اور وہ اندھیرے میں ادھر اُدھر بھاگی اس عورت نے چونکہ ایسی عجیب چیز پہلے نہ دیکھی تھی اس لئے اس نے خیال کیا کہ شاید میری دعا قبول ہو گئی اور یہ ملک الموت ہے۔اسی خیال سے وہ چلا اٹھی کہ ملک الموت میری جان نہ نکالو بیمار وہ پڑی ہے اس کی جان نکال لو۔تو اس قسم کے لوگ جب حکام اور پبلک کو اپنے مقابلہ میں دیکھ لیتے