خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 351

خطبات محمود ۳۵۱ دوستوں کو میں دیگر نیچے بھیجا کہ تم نے بالکل ہاتھ نہیں اٹھانا ہو گا اور صرف اپنے آدمیوں کو پکڑ کر لانا ہو گا۔یہ واقعہ یہاں ہزاروں آدمیوں کی موجودگی میں ہوا۔لیکن پولیس نے جو کارروائی کی وہ یہ ہے کہ ہمارے معززین کی ضمانتیں لے لیں اور ضمانتیں بھی ہزار ہزار روپیہ کی حالانکہ دنیا کے عام قواعد کے لحاظ سے بھی یہ کارروائی سراسر نا جائز تھی۔جب یہاں تھا نہ قائم ہوا تو ہوم سیکرٹری صاحب، ڈپٹی کمشنر صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس سب نے یہی کہا کہ چونکہ اس علاقہ میں جرائم کی کثرت کے علاوہ مدیح کی وجہ سے بھی بہت جوش اردگرد کے دیہات میں پھیل گیا ہے اس لئے قادیان کی حفاظت کے لئے بھی تھا نہ کا یہاں قیام اشد ضروری ہے۔مگر مباہلہ میں شائع ہوا ہے کہ احمدیوں کو شرارتوں سے روکنے کے لئے یہاں تھانہ قائم ہوا ہے۔اس کی ذمہ داری بھی مقامی پولیس پر عائد ہوتی ہے۔میں ہوم سیکرٹری صاحب اور ڈپٹی کمشنر صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس سے واقف ہوں اور جانتا ہوں کہ یہ نہایت اچھے آدمی ہیں اور میں ایک منٹ کیلئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ انہوں نے پولیس والوں کو اندر سے کچھ اور کہا ہو۔لیکن اس طرح مستریوں کا مباہلہ میں غلط بیان شائع کرنا ظاہر کرتا ہے کہ مقامی پولیس کے بعض افسروں نے ان کو دھوکا دیا ہے اور ان کے سامنے جھوٹ بولا ہے۔اگر یہ قیاس درست ہے تو کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ جس پولیس کو افسروں نے اس لئے مقرر کیا تھا کہ جرائم کی روک تھام کے علاوہ وہ احمدیوں کی حفاظت کرے اس کے بعض افسر نہایت مفسدانہ طریق پر احمدیوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔یہ بات کبھی چھپی نہیں رہے گی اور ان افسروں کی ناجائز کارروائیاں آخر ظاہر ہو کر رہیں گی۔یہ سخت نادانی ہے کہ پولیس کے بعض افسر یہ سمجھتے ہیں وہ حاکم ہیں وہ ہرگز حاکم نہیں بلکہ ہمارے خادم اور نوکر ہیں اور انہیں خادم اور نوکر ہو کر ہی رہنا پڑے گا۔احمدی بے شک وفادار ہیں لیکن وہ آزاد ہیں اور اگر ان میں آزادی کی یہ روح نہ ہوتی تو وہ کبھی گورنمنٹ کے لئے اتنی قربانیاں نہ کر سکتے۔کیونکہ جو شخص آزاد نہ ہو بُز دل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جہاں پولیس بھی بھاگ گئی وہاں بھی احمدیوں نے انگریزوں سے وفاداری کا ثبوت دیا۔گوجرانوالہ کے سٹیشن پر جب تمام پولیس میدان چھوڑ کر بھاگ چکی تھی ایک احمدی لڑکے نے ایک انگریز افسر کی جان بچائی۔اسی طرح ان ایام میں جب خود پولیس کے اوسان خطا ہو چکے تھے ایک احمدی یعنی حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے کانگریس کے سٹیج پر کھڑے ہو کر حکومت کی حمایت میں