خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 313

خطبات محمود ۳۱۳ سال ۱۹۳۰ء دو۔اس نے سالہا سال تک حضرت نوح کو دشمنوں کے ہاتھوں اس طرح ذلت سے مسلا جاتا اور پامال ہوتا دیکھا جس طرح ذلیل سے ذلیل کیڑے کو بھی کوئی نہیں مسلتا مگر خاموش رہا اور کہا اس کو ان مصائب سے گذرنے دو کہ یہ میر اثر ب اور کمال حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا مگر اللہ تعالیٰ جو ان سے بہت محبت کرتا تھا خاموش رہا۔پھر حضرت موسیٰ“ اور حضرت عیسی اور بالآ خر رسول کریم ﷺ کو بھی تکالیف پیش آئیں۔آپ پر ایسے ایسے مصائب آئے کہ آج کوئی انسان انہیں پڑھ کر اپنے آنسو نہیں روک سکتا لیکن باوجود اس کے کہ آپ سید ولد آدم تھے۔خاتم النہین تھے تمام نبیوں کے سردار تھے اور باوجود اس کے کہ آپ اللہ تعالیٰ کو اس قدر پیارے تھے کہ اس نے اپنی محبت کو آپ میں مرکوز کر دیا اور فرما دیا ان كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْتِكُمُ اللهُ " اور اپنی محبت کے تمام دروازے بند کر دیے سوائے اس کے ج محمد ماہ میں سے ہو کر آتا تھا مگر آپ کو مصیبت پر مصیبت آئی۔فاقہ پر فاقے ہوئے آپ نے اپنے محبوبوں اور عزیزوں کو بھوک پیاس سے اپنے سامنے تڑپتے دیکھا۔تین سال تک محصور رہے جہاں کھانے کے لئے کچھ نہیں ملتا اور درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرتے تھے۔ایک صحابی کہتے ہیں ہمیں آٹھ آٹھ دن پاخانہ نہیں آتا تھا اور جب آتا تھا تو بکری کی مینگنیوں کی طرح کا آتا کیونکہ کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا اور ہم درختوں کے پتے کھاتے تھے۔کے یہ حالت تین سال تک رہی۔پھر اس کے معابعد عزیز ترین وجود آپ سے جد ا ہو گیا یعنی آپ کی محبوب اور غمگسار بیوی فوت ہو گئیں۔پھر اور تکالیف آئیں اور اللہ تعالی اس سلسلہ کو لمبا کرتا گیا کیونکہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتا تھا کہ اس کا سب سے زیادہ محبوب اس کیلئے سب سے زیادہ تکالیف برداشت کر رہا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو جگانے کے لئے مصائب نازل کرتا رہتا ہے۔مؤمنوں کے لئے ان مصائب کا نام اس نے ابتلاء رکھ دیا ہے اور منکروں کے لئے عذاب۔مؤمنوں کے لئے صرف عزت کے لئے اور نام رکھ دیا تا ان کے احترام میں فرق نہ آئے اور تا دنیا یہ نہ کہے کہ خدا اور اس کے رسولوں کو ماننے والے بھی عذاب میں گرفتار ہوتے ہیں وگر نہ چیز ا ہے۔جیسے ہم کسی سے کہتے ہیں کھانا ٹھونس لو۔کسی سے کہتے ہیں کھانا کھا لیجئے اور کسی سے کہتے ہیں تناول فرما لیجئے بات تو ایک ہی ہے لیکن ٹھونس لو کہنا نا راضگی کیلئے کھا لیجئے برابری کیلئے اور تناول فرما لیجئے اعزاز کے لئے ہے وگر نہ بات ایک ہے۔اسی طرح مؤمن اور کافر دونوں کو