خطبات محمود (جلد 12) — Page 290
خطبات محمود ۲۹۰ سال ۱۹۳۰ء کے ہاتھ میں رہے گا تا وہ مطمئن رہیں کہ ان کے حقوق پامال نہیں ہوں گے۔لیکن اگر کہا جائے کہ ہندوؤں کے ہاتھ میں ہوگا تو وہ ہندو جو آج جب کہ انگریزوں سے جنگ کرنے کے لئے انہیں مسلمانوں کی مدد کی ضرورت ہے مسلمانوں کے مطالبات نہیں مانتے تو بر سر حکومت آ جانے پر وہ کب سنیں گے۔پہلے کسی ہندو ریاست سے ہمیں حقوق لیکر بتاؤ پھر ہم مان لیں گے کہ اُس وقت بھی ہندو ہمارے حقوق دے دیں گے۔اگر کہا جائے مشترک طور پر انتظام کیا جائے گا تو پھر وہی سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اشتراک کس نسبت سے ہوگا اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا کیا انتظام ہوگا۔بعض مسلمان کہہ دیتے ہیں یہ سوال ابھی مت اُٹھاؤ پہلے انگریزوں کو ملک سے نکال لو اس کے بعد ہندوؤں سے مسلمان زبردستی اپنے حقوق لے لیں گے۔لیکن یہ خیال انہیں مسلمانوں کا ہے جن کے دلوں میں غداری اور بد دیانتی ہے۔یہ خیال کہ انگریزوں کے بعد ہندوؤں سے لڑ کر ان کو نکال دیا جائے گا اول تو بد دیانتی ہونے کی وجہ سے مذ ہبانا جائز ہے خواہ ہندو ہو یا کوئی اور غیر مسلم اس سے ایسا دھوکا کرنا کسی طرح جائز نہیں۔لیکن یوں بھی یہ خیال باطل ہے۔یہ خیال عام طور پر پنجاب میں پایا جاتا ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے اور زیادہ تر فوجی خدمات سرانجام دیتے ہیں باقی اب تک جہاں کہیں بھی لڑائی ہوئی ہے مسلمان ہی زیادہ مارے گئے ہیں۔پنجاب میں چونکہ ہندوؤں کی تعداد کم ہے اور جو ہیں وہ بنیا لوگ ہیں اس لئے پنجاب کے بعض کوتاہ فہم مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ مسلمان لڑائی میں سارے ہندوستان کے ہندوؤں کو شکست دے سکتے ہیں۔ذرا اوپر حصار گوڑ گا نواں کرنال انبالہ کی طرف چلے جاؤ تمام ہندو جاٹ اور راجپوت آباد ہیں۔پھر پہاڑوں میں ڈوگرے بستے ہیں اور ان تمام باتوں کو فراموش کر کے کنویں کے مینڈک کی طرح یہ خیال کر لینا کہ ہم ہندؤں کو مار کر نکال دیں گے بیہودہ بات ہے۔ابھی ڈھا کہ میں فساد ہوا ہے جس میں دو مسلمان مارے گئے اور ہندو کوئی بھی نہیں مرا۔بہار میں جب ہندو مسلم فساد ہوا تو ہندوؤں نے مسلمانوں کو ہی قتل کیا تھا۔پھر کٹار پور اور آرہ وغیرہ مقامات پر مسلمانوں کو بے دریغ تہہ تیغ کیا گیا۔غرض ہندو جہاں بھی بیدار ہیں وہاں مسلمان لڑائی میں ان سے ہر گز نہیں جیت سکتے۔پھر تعداد تنظیم اور روپیہ میں بھی وہ زیادہ ہیں۔لاہور میں میں نے گلیوں کے اندر انہیں گی کا کھیلتے دیکھا ہے۔دو تین روز ہوئے میں ایک گاؤں سے واپس آرہا تھا کہ ایک گاؤں میں رسہ کشی ہوتے دیکھی۔چند سال