خطبات محمود (جلد 12) — Page 261
خطبات محمود ۲۶۱ سال ۱۹۳۰ء ہیں بلکہ یوں ہو کہ میں نے فلاں کو یہ بات کہتے یا کرتے دیکھا۔یا فلاں نے دیکھا اور مجھے سنایا لیکن میرے سوائے اور کوئی اس بات کا گواہ نہیں۔یا گواہ ہیں تو سہی لیکن گواہی نہ دیں گے اس لئے میں بطور اطلاع لکھتا ہوں۔ہم ایسی باتوں پر کوئی گرفت نہ کر سکیں گے مگر ہوشیار ہو جائیں۔گے اور اس بات کا خیال رکھیں گے۔ایک دفعہ ایک عزیز نے مجھے آ کر کہا فلاں شخص فلاں جماعت میں اس قسم کی باتیں کر کے فتنہ پھیلا رہا ہے۔میں نے اس کی بات سن لی مگر کچھ جواب نہ دیا۔کچھ دنوں کے بعد پھر اس نے آ کر یہی بات کہی اور اس پر بہت زور دیا۔میں نے کہا یہ آپ کی رائے ہے اور مجھے اس بات کا علم آپ کے سنانے سے پہلے کا ہے مگر شریعت اسلامی ایسی صورت میں اجازت نہیں دیتی کہ میں ہاتھ ڈالوں۔وہ میرے متعلق اور میرے ہی خلاف سازش تھی۔مگر میں نے کہا جب شریعت اجازت نہیں دیتی تو خواہ کوئی بات میری ذات کے متعلق ہو یا کسی اور کے متعلق میں کچھ نہیں کر سکتا۔پھر میں یہ بھی نہیں کر سکتا کہ کسی اور بہانہ سے اسے کوئی سزا دوں کیونکہ یہ دیانت اور تقویٰ کے خلاف ہے۔اس پر اس عزیز نے جوش میں آ کر کہا اس کے تو یہ معنی ہوئے کہ فساد بڑھتا جائے اور اسے روکا نہ جائے۔میں نے کہا جو خدا روکتا ہے کہ ایسی بات کی سزا نہ دو وہ فساد کا بھی ذمہ دار ہے وہی اس کے متعلق انتظام کرے گا۔پس خدا تعالیٰ نے جہاں حد بندی کر دی ہے وہاں ہمیں دخل دینے کی ضرورت نہیں اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ پر ہی عائد ہوتی ہے۔اگر اس وجہ سے کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے کہہ دیں گے اس لئے ہوا کہ آپ نے کہا تھا فلاں موقع پر سزا دینی چاہئے اور فلاں موقع پر چشم پوشی کرنی چاہئے۔اور میں تو سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے جب کوئی ایسا فتنہ پیدا ہونے لگے تو خود اس کی اصلاح کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ چونکہ بندوں کے متعلق یہی پسند کرتا ہے کہ ان کی اصلاح ہو اور وہ تو بہ کریں اس لئے ڈھیل دیتا ہے اور جب خدا تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے اور توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے تو کسی بندے کا کیا حق ہے کہ اسے بند کرے۔خواہ فتنہ پھیلانے والا میری ذات کے متعلق شرارت کرے یا کسی اور کی ذات کے متعلق۔پس جب کوئی ذاتی معاملہ ہوگا تو اس کا تصفیہ شہادت پر اسی طریق سے ہوگا جو شریعت نے مقرر کیا ہے اور اگر کوئی قومی معاملہ ہوگا تو اس کا فیصلہ رائے عامہ سے ہو گا اس کے بغیر نہیں۔