خطبات محمود (جلد 12) — Page 222
خطبات محمود ۲۲۲ سال ۱۹۲۹ء اپنی کسی حالت کو انتہائی نہ سمجھو فرمود ۱۳۵۔دسمبر ۱۹۲۹ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنی صفات کا ظہور ان کے مورد کی استعداد کے مطابق کیا کرتا ہے یعنی جن کے لئے وہ صفات ظاہر ہو رہی ہوں ان کے قومی ان کی قابلیت ان کی طبیعت اور ان کی فطرت کے مطابق انہیں ظاہر کرتا ہے کیونکہ اُس کا نام رب ہے اور رب اُسے کہتے ہیں جو تدریجی طور پر معاملہ کرتا ہے۔اگر معاملہ تدریجی نہ ہو اور حکیم کی صفت جو صفت ربوبیت کے ماتحت ہے ظاہر نہ ہو تو دنیا بالکل تباہ و برباد ہو جائے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ہے کہ جس قدر صفات الہیہ ہیں وہ ساری کی ساری ان چار صفات کے ماتحت اور انہیں کے دائرہ کے اندر ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں اور اسی لئے میں نے خدا کی صفت حکیمیت کے متعلق یہ بات بیان کی ہے کہ یہ ربوبیت کی صفت کے ماتحت ہے۔بہت دفعہ وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے فہیم قرآن کا خاص ملکہ عطا نہیں فرمایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس بات کو پڑھ کر حیران ہوتے ہیں کہ ساری صفات چار کے ماتحت کیونکر ہو سکتی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے۔ربوبیت تدریج کی طرف اشارہ کرتی ہے اور حکیمیت بھی تدریج پر دلالت کرتی ہے گو یہ ایک پہلو کے متعلق ہے۔حکمت کیا ہے؟ یہی کہ تقاضائے وقت اور مناسب حالات کے ماتحت بات کی جائے اور تدریج بھی یہی ہے کہ بات مناسب موقع ہو۔بہر حال اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور وہ اپنے بندوں سے اسی رنگ میں معاملہ کرتا ہے جس کی بندوں کو