خطبات محمود (جلد 12) — Page 202
خطبات محمود ۲۰۲ سال ۱۹۲۹ء الفاظ میں یہ اعلان کر دیتے ہیں کہ فلاں قوم میں یہ غلطی ہے فلاں تعلیم میں یہ نقص ہے فلاں میں یہ عیب ہے اور بچی تعلیم وہی ہے جو ہم پیش کرتے ہیں اس لئے تمام اقوام ان کی مخالف ہو جاتی پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تعلقات دنیا سے دوستانہ نہیں بلکہ مخالفانہ ہیں۔اگر چہ نتیجہ تو انجام کار یہی نکلے گا کہ آپ کے ہاتھ پر جمع ہونے کے بغیر دنیا میں صلح نہیں ہو سکے گی کیونکہ تفرقہ کی وجہ یہی ہے کہ سب میں کوئی قدر مشترک نہیں اور آپ کو خدا تعالیٰ نے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ آپ سب کے لئے ایک ہاتھ پر جمع ہونے کا موجب ہو سکیں اور آپ کا وجود اس میں شبہ نہیں کہ دنیا سے فساد کے تمام دروازے مسدود کر دے گا لیکن جب تک دنیا اس معرفت کو جاننے کے لئے تیار نہیں ہوتی آپ کو فسادی ہی کہے گی۔پس نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قومی لیڈر نہیں بلکہ کسی بھی قوم سے آپ کے تعلقات ایسے نہیں کہ وہ آپ کی مؤید ہو سکے۔آپ نے ہر قوم کے عیب اور ہر تعلیم کے نقص ظاہر کئے ہیں۔ایسی صورت میں غور کرنا چاہئے کہ ہماری ذمہ داری کس قدر بڑھ جاتی ہے۔جب ساری دنیا سے تعلیم کی وجہ سے لڑائی جھگڑا ہے اور جب کوئی قوم بھی آپ کو اپنا نیشنل لیڈر نہیں سمجھتی تو پھر سوچنا چاہئے کہ دنیا کو مندانا اور آپ کی طرف لانا کتنا مشکل ہے۔ایک طرف تو مذہبی مخالفت ہے اور دوسری طرف کسی قوم سے قومی وابستگی نہیں۔پس اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب ایسے لوگوں کا جنگی کوئی مخالفت نہیں ہوتی منوانا دقت طلب ہوتا ہے تو آپ کا منوانا کس قدر مشکل ہو گا۔یہ کوئی معمولی بات نہیں پہاڑوں کا اپنی جگہ سے ہل جانا آسان ہے دریاؤں کا اپنی جگہ کو چھوڑ دینا مشکل نہیں لیکن قلوب کا بدل دینا بہت مشکل ہے سوائے ایک دیوانگی کے سوائے ایک جنون کے جماعت کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ہر شخص کو یہ دیوانگی ہو یہ جنون ہو یہ تڑپ ہو کہ جس طرح ہو سکے دنیا کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حلقہ بگوش بنانا اور تمام لوگوں کو جماعت احمدیہ میں داخل کرنا ہے۔جب تک یہ نہ ہوگا یہ کام بھی نہیں ہوگا۔اپنے اندر یہ جنون پیدا کرو یہ تڑپ پیدا کرو پھر دیکھو خدا کے فضلوں کے دروازے کس طرح گھلتے ہیں۔یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ اگر چہ یہ کام نہایت ہی مشکل ہے لیکن خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق ہے چونکہ اللہ تعالیٰ کی تائید سے حاصل ہے اس لئے آسان بھی بہت ہے۔اگر سامان اور تدبیر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس سے زیادہ مشکل کام اور دنیا