خطبات محمود (جلد 12) — Page 201
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء کے لئے ہوتے تو شاید اس ملک کی سیاسی تحریکات ان کی مؤید ہوتیں اور لوگ انہیں مان لیتے لیکن وہ اتنے وسیع عالم کے لئے ہیں جس میں ہر قوم دوسری سے لڑ رہی ہے۔پھر جو شخص ساری دنیا کی طرف آتا ہے وہ کسی خاص قوم کا نیشنل لیڈر بھی نہیں بن سکتا کیونکہ وہ اگر ایک قوم کا لیڈ رہو جائے تو دوسری علیحدہ رہ جاتی ہے اس لئے جو شخص ساری دنیا کی طرف مبعوث ہو وہ کبھی ایسا مقصد پیش نظر نہیں رکھ سکتا جو کسی خاص ملک کے لئے ہو اس لئے اس کا دعوی کسی خاص ملک کو اپیل نہیں کر سکتا۔جس طرح ایک زمانہ میں گاندھی جی نے اعلان کیا تھا کہ میں اتنے عرصے تک ہندوستان کو سو راج دلا دوں گا۔ایسی بات ایسے ہی منہ سے نکل سکتی ہے جو اپنے آپ کو ہندوستان سے وابستہ سمجھے لیکن اگر اس کی وابستگی سارے عالم سے ہو تو وہ کبھی صرف ہندوستان کو سو راج دلانے کا اعلان نہیں کر سکتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے اگر میں نے ہندوستان کو سو راج دلانے کا اعلان کیا تو دوسرا ملک ناراض ہو جائے گا اور وہ کوئی ایسا دعویٰ نہیں کر سکے گا جس سے وہ نیشنل لیڈر بن سکے۔اس لئے اس کے مقاصد ایسے بھی نہیں ہو سکتے جو کسی خاص قوم کے لئے دلچپسی کا موجب ہوسکیں اور اس طرح قومیت کا رنگ اختیار کر سکیں۔اور یہ مسلّمہ امر ہے کہ جوش دلانے والی تحریکات صرف وہی ہوتی ہیں جن میں قومیت کا رنگ ہو۔مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ آؤ ہم مل کر ساری دنیا کے لوگوں کو بھائی بھائی بنا دیں تو وہ کبھی لوگوں کے اندر اس تحریک سے جوش پیدا نہیں کر سکتا۔لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ آؤ فلاں ملک کو ہم آزاد کرائیں تو فوراً تمام ملک میں جوش پیدا ہو جائے گا۔سو جوش پیدا کرنے کے لئے قومی لیڈر ہونا ضروری ہے اور یہ چیز جو دنیوی لحاظ سے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میسر نہیں۔پھر کبھی ایسی بھی تعلیمات ہوتی ہیں جن کی لوگ مخالفت نہیں کرنا چاہتے اس لئے اگر کوئی ان کے ذریعہ بڑا بننا چاہے تو لوگ کہتے ہیں بن جائے۔لیکن جب نبی آتے ہیں تو وہ ایسی تعلیم پیش کرتے ہیں جو سب کی مخالفت کو بھڑ کا دے۔وہ نہیں کہتے کہ تم میں یہ بات اچھی ہے فلاں میں وہ بات اچھی ہے آؤ ہم سب اچھی باتوں کو اکٹھا کر کے آپس میں مل جائیں۔بلکہ وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں تم میں یہ عیب ہے فلاں میں یہ عیب ہے اور میں اس لئے آیا ہوں کہ تم سب کی غلطیوں کی اصلاح کروں اس لئے ان کی ابتدائی : تعلیم ہمیشہ دنیا کے اندر جھگڑے کی آگ کو زیادہ بھڑکا دیا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر نبی پر یہ اعتراض ہوتا آیا ہے کہ اُس نے آ کر فساد ڈلوا دیا کیونکہ وہ بغیر کسی کی رُور عایت یا لحاظ کے صاف