خطبات محمود (جلد 12) — Page 196
خطبات محمود 194 سال ۱۹۲۹ء سے ڈر گئے کہ احمدی چندے دیتے دیتے تھک گئے ہیں حالانکہ مؤمن دشمنوں کی باتوں سے ڈرا نہیں کرتا۔آن را که حساب پاک است از محاسبه چه باک“۔اس میں کیا شبہ ہے کہ بعض ایسے حالات کی وجہ سے جو ہمارے قبضہ اقتدار سے باہر ہیں ہمیں مالی مشکالات کا سامنا ہوا ہے لیکن یہ مشکلات سب کے لئے ہیں حتی کہ حکومت پر بھی اس کا اثر ہوا ہے اور اسے بھی لگان اراضی معاف کرنا پڑا ہے۔پس ایسے نازک وقت میں ہمارے کاروبار کا چلتے جانا ہمارے ایمان کی علامت ہے نہ کہ تھکنے کی اور اگر تھک بھی گئے ہوں تو دشمن کے خوف سے ہمیں اس کے علاج کا طریقہ نہیں چھوڑ دینا چاہئے۔پس ہمیں مخالفوں کے اعتراضات سے قطعا نہیں ڈرنا چاہئے کیونکہ یہ خدا کا کام ہے اور اعتراضات خدا تعالیٰ کے کام کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک شخص نے کہا کہ میں آپ کا بہت مداح ہوں لیکن ایک بہت بڑی غلطی آپ سے ہوئی۔آپ جانتے ہیں علماء کسی کی بات نہیں مانتا کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں اگر مان لی تو ہمارے لئے موجب ہتک ہو گی۔لوگ کہیں گے یہ بات فلاں کو مو جبھی انہیں نہ سُوجھی اس لئے ان سے منوانے کا یہ طریقہ ہے کہ ان کے منہ سے ہی بات نکلوائی جائے۔جب آپ کو وفات مسیح کا مسئلہ معلوم ہوا تھا تو آپ کو چاہئے تھا چیدہ چیدہ علماء کی دعوت کرتے اور ایک میٹنگ کر کے یہ بات ان کے سامنے پیش کرتے کہ عیسائیوں کو حیات مسیح کے عقیدہ سے بہت مد دملتی ہے اور وہ اعتراض کر کے اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ تمہارا نبی فوت ہو گیا اور ہمارے مذہب کا بانی آسمان پر ہے اس لئے وہ افضل بلکہ خود خدا ہے اس کا کیا جواب دیا جائے ؟ اُس وقت علماء یہی کہتے آپ ہی فرمائیے اس کا کیا جواب ہے۔آپ کہتے کہ رائے تو دراصل آپ لوگوں کی ہی صائب ہو سکتی ہے لیکن میرا خیال ہے کہ فلاں آیت سے حضرت مسیح کی وفات ثابت ہو سکتی ہے۔علماء فورا کہہ دیتے کہ یہ بات ٹھیک ہے بسم اللہ کر کے اعلان کیجئے ہم تائید کے لئے تیار ہیں۔پھر اسی طرح یہ مسئلہ پیش ہو جاتا کہ حدیثوں میں مسیح کی دوبارہ آمد کا ذکر ہے مگر جب مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے تو اس کا کیا مطلب سمجھا جائے گا۔اس پر کوئی عالم آپ کے متعلق کہہ دیتا آپ ہی مسیح ہیں اور تمام علماء نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دینی تھی۔یہ تجویز سن کر حضرت مسیح موعود نے فرمایا اگر میرا دعوئی انسانی چال سے ہوتا تو میں بے شک ایسا ہی کرتا مگر یہ خدا کے حکم سے تھا۔خدا نے جس طرح سمجھایا اسی طرح میں نے کیا۔تو چالیس اور