خطبات محمود (جلد 12) — Page 173
خطبات محمود ١٤٣ سال ۱۹۲۹ء غرض بہت سے واقعات سے ثابت ہے کہ یہ لوگ عیسائیت کے رنگ کا بہاء اللہ کو خدا مانتے ہیں مگر لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے کہتے ہیں ایسا نہیں مانتے جیسا مسلمان مانتے ہیں۔ایسا خدادہ بہاء اللہ کو مان ہی کس طرح سکتے ہیں مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِہ کے مصداق بن کر خدا تعالی کی اصل شان نہیں سمجھتے۔اسی لئے انہیں بہاء اللہ کو خدا بنانے کا دھوکا لگا ہے ورنہ اگر وہ خدا تعالیٰ کی صحیح شان سمجھ سکتے تو کبھی بہاء اللہ کو خدا تسلیم نہ کرتے۔چونکہ یہ لوگ اسلام کی بتائی ہوئی تعریف کے خلاف خدا تجویز کرتے ہیں اس لئے اس کے بیوی بچے بھی قرار دیتے ہیں۔اس کے لئے کھانا پینا بھی ضروری سمجھتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں خیال کرتے۔پس یہ دھوکا ہے جو بہائیوں کی طرف سے دیا جاتا ہے کہ بہاء اللہ خدائی کا دعویدار نہیں تھا۔بے شک اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے اس جیسا خدا ہونے کا بہاء اللہ نے دعوئی نہیں کیا مگر عیسائیت والا خدا ہونے کا دعویٰ ضرور کیا ہے۔جو باتیں بہائی بہاء اللہ کے خدائی کا دعویدار نہ ہونے کے متعلق پیش کرتے ہیں وہی یسوع مسیح کے متعلق دکھائی جاسکتی ہیں۔وہی ان ہندوؤں میں دکھائی جاسکتی ہیں جو حضرت کرشن کو خدا قرار دیتے ہیں مگر باوجود اس کے عیسائی حضرت مسیح کو اور ہند و حضرت کرشن کو خدا قرار دیتے ہیں۔غرض یہ محض ان لوگوں کا دھوکا ہے جو نا واقف لوگوں کو دیتے ہیں۔ان کی کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں ان سے یہ باتیں ثابت کی جاسکتی ہیں باقی اپنی کامیابی اور تعداد کے متعلق جو کچھ کہتے ہیں اس میں نانوے فیصدی جھوٹ ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔اگر کسی ملک میں دس لاکھ بہائی بتا ئیں تو وہاں دس بھی مشکل سے ہوں گے۔امریکہ میں کہتے ہیں پچپن لاکھ بہائی ہیں اور اب تو ان کے اندازہ کے لحاظ سے ڈیڑھ کروڑ ہو گئے ہوں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ پندرہ ہزار بھی نہیں مل سکتے۔صرف اخباروں کے خریدار ہو جانے کے یہ معنی نہیں کہ وہ لوگ بہائی بھی ہوتے ہیں۔ہمارے اخباروں کے بھی کئی ہندو سکھ اور غیر احمدی خریدار ہیں۔پھر ان کے ہاں چندہ مقرر ہے گوا تنا نہیں جتنا ہماری جماعت کا ہے اور باوجودیکہ بہاء اللہ نے سب مال بیٹوں کیلئے رکھا ہے مگر ان کی حالت دیکھی ہے بہت کمزور ہے۔ان کا ایک بھی مدرسہ نہیں ان کے اپنے بچے سرکاری مدرسہ میں پڑھنے کے لئے جا رہے تھے۔چونکہ لوگ ان کے حالات سے واقفیت نہیں رکھتے اس لئے وہ باتیں بناتے رہتے ہیں حالانکہ اس قسم کی باتیں بالکل دیانت داری کے خلاف