خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 169

خطبات محمود ۱۶۹ سال ۱۹۲۹ء ہوں یہ بھی غلط ہے کہ ان کا کوئی بڑا بھاری جتھہ ہے۔باب کو دعویٰ کئے اسی سال سے زاہد ہو گئے ہیں اس عرصہ میں ان کی جو جماعت قائم ہوئی اس کا مقابلہ جماعت احمدیہ کی چالیس سال میں پیدا ھدہ تعداد سے کر لیا جائے۔باقی ان لوگوں کی قربانیاں پیش کی جاتی ہیں مگر ان کا پتہ مقابلہ سے لگ سکتا ہے ان میں سات آدمیوں کی قربانی بہت مشہور ہے۔مگر بات یہ ہوئی کہ اڑتیں آدمی پکڑے گئے تھے جن میں سے اکتیس تائب ہو کر چھوٹ گئے اور صرف سات باقی رہے۔مگر ہماری جماعت کے پانچ آدمی پکڑے گئے جن میں سے ایک نے بھی صداقت کا انکار نہ کیا اور خوشی سے جان دے دی۔ان کے نام یہ ہیں۔عبدالرحمن صاحب صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب نعمت اللہ خاں صاحب نور علی صاحب، عبد الحکیم صاحب۔یہ پانچوں علیحدہ علیحدہ موقعوں پر گرفتار ہوئے مگر ہر ایک نے اپنے عقائد کو صاف صاف بیان کر دیا۔انہیں عقائد کا تھوڑا بہت انکار کرنے پر بھی چھوڑ دینے کے لئے کہا گیا مگر انہوں نے قطعاً گوارا نہ کیا کہ بال بھر بھی اپنے عقائد سے علیحدہ ہوں اس کی بجائے یہ پسند کیا کہ کال کوٹھریوں میں انہیں بند کیا جائے، بھوکا پیاسا رکھا جائے، بہت وزنی آہنی زنجیریں پہنائی جائیں، ناک میں نکیل ڈال کر بازاروں میں گھسیٹا جائے اور پتھر مار مار کر شہید کر دیا جائے۔آخر مرتے وقت بھی یہی دعا ان کی زبان پر تھی خدا تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے۔بہائی ان لوگوں کو تو پیش کرتے ہیں جو ان میں سے مارے گئے مگر یہ بھی نہیں بتاتے کہ انہوں نے کتنے بے گناہوں کے خون بہائے۔بہت سے ایسے واقعات موجود ہیں جن میں بہائیوں نے دوسروں کو قتل کیا۔یہ لوگ اپنے آپ کو مظلوم کہتے کہتے نہیں جھکتے مگر یہ نہیں بتاتے کہ خود انہوں نے کتنے مظالم کئے۔اس کے مقابلہ میں احمدی جماعت کا کوئی ظلم ثابت نہیں کیا جا سکتا حالانکہ ہماری جماعت کے لوگوں نے مخالفین سے بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھا ئیں۔کبھی کسی لڑائی میں کسی احمدی کے ہاتھ سے کسی کو چوٹ لگ گئی ہو تو یہ اور بات ہے ورنہ احمدیوں نے کسی پر حملہ نہیں کیا احمدیت کا چہرہ اس داغ سے بالکل صاف ہے۔پس کسی صورت میں بھی بہائیت احمد بیت پر غالب نہیں آسکتی۔رہا یہ کہ کوئی بہائیت کی حمائت میں مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔اوّل تو اس کے بغیر ہی ثابت ہے کہ کسے خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہے۔لیکن اگر کوئی مباہلہ کرنا چاہے اور اس کی ایسی پوزیشن ہو جو مذہبی لحاظ سے کچھ اثر رکھتی ہو تو اس سے ایک دفعہ نہیں بلکہ ہزار دفعہ ہم مباہلہ کے لئے تیار