خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 115

خطبات محمود 110 ہو وہاں ناراضگی یا قربانی سے روک دینا ہی بڑی سزا ہوتی ہے۔یہ کہہ دینا کہ جو سلسلہ سے نکل جاتے ہیں یا مخالف ہو جاتے ہیں ان کا کیا بگاڑ لیا جاتا ہے جہالت کی بات ہے۔خدا تعالیٰ کی سزائیں ظاہری نہیں ہوتیں۔رسول کریم اللہ کے زمانہ میں عبد اللہ بن ابی ابن سلول کو کیا سزا دی گئی حالانکہ اُس وقت حکومت تھی، سلطنت تھی، دبدبہ تھا مگر خدا کی مصلحت یہی تھی کہ اسے ظاہری سزا سے بچایا جائے اگر آج بھی کسی کو وہ روحانی کان حاصل ہوں جو خدا تعالیٰ کے مقرب لوگوں صلى الله کو حاصل ہوتے ہیں تو وہ آج بھی عبداللہ بن ابی کی یہ آواز سن سکتا ہے کہ کاش رسول کریم علی مجھے سزا دے لیتے تا میں دوسری زندگی کی سزا سے بچ سکتا۔کوئی کہہ سکتا ہے وہ دنیا میں سزا سے بچ گیا تھا۔مگر نہیں۔حقیقی انعام اور سزا تو اگلے جہان میں ہوتی ہے یہاں کا کیا ہے۔دنیاوی انعاموں کا اگر سوال ہو تو رسول کریم علیہ کو کیا مل گیا۔آخری عمر میں آپ عرب کے بادشاہ ہو گئے تھے لیکن یہ کونسا بڑا انعام تھا۔آج دنیا میں خدا کے منکر اس سے بہت بڑی حکومتوں کے مالک ہیں۔اصل انعام خدا کے قرب اور اُس کی نصرت کا نام ہے اور وہی متمثل ہو کر اگلے جہاں میں ملتا ہے اگر اسے مدنظر نہ رکھا جائے تو کچھ بھی نہیں۔رسول کریم اللہ کو جو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوا اس کے مقابلہ میں دنیا کی تمام بادشاہتیں بیچ ہیں۔اگر اس کا ہزارواں حصہ بھی کسی عارف کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ ساری دنیا کی بادشاہت کو اس کے لئے لات مار دینے پر تیار ہو جائے گا اور اسے جوتی کی نوک سے ٹھکرا دے گا۔مگر یہ امر بینائی سے تعلق رکھتا ہے جیسے بصیرت ہی حاصل نہیں وہ اسے کیا سمجھ سکتا ہے۔یہ مستری جو میری مخالفت کرتے ہیں انہیں بھی سزا مل رہی ہے اور وہ جھوٹ کی سزا ہے۔ان کے اخبار کا کوئی پر چہ اُٹھا کر دیکھو۔جھوٹ اور افتراء سے بھرا ہوا ہوگا ظاہر میں تو بیشک انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا بلکہ ان کی انجمنیں بن گئیں انہوں نے اخبار بھی نکال لیا ان کی مشینیں بھی زیادہ پکنے لگ گئیں جو شخص جھوٹ کو بُر انہیں سمجھتا وہ بیشک ان باتوں کو انعام سمجھے گا۔لیکن جس کے نزدیک سچائی کوئی چیز ہے وہ جانتا ہے یہ ایک نہایت ہی سنگین سزا ہے جو اُن کے حصہ میں آئی ہے۔حق کی مخالفت سے انسان کے اندر سے صداقت مٹ جاتی ہے سچائی جاتی رہتی ہے تقوی برباد ہو جاتا ہے ایسا انسان خدا تعالیٰ کے قرب سے محروم ہو جاتا ہے اور اسے اطمینانِ قلب حاصل نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے عزت کو ہمارے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔یعنی یا تو ہماری