خطبات محمود (جلد 12) — Page 88
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء ہوتے ہیں اور سب ہی ان کی جان کے خواہاں ہوتے ہیں۔ جس طرح خدا تعالیٰ اکیلا ہے اور وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ ہے اسی طرح اس کی کھڑی کی ہوئی جماعتیں بھی اکیلی ہوتی ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ انہیں لوگوں کے سہارے ترقی دے۔ وہ دنیا کی ہر طاقت کو ان کے مقابلہ میں کھڑا کرتا ہے ہر طرف سے ان کے لئے فتنے پیدا کرتا ہے اور ساری دنیا کو ان کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسی طرف اپنے ایک شعر میں اشارہ فرمایا ہے جس سے کئی لوگوں نے بہت نا جائز فائدہ اٹھایا ہے آپ نے فرمایا۔ کر بلائیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم مطلب یہ کہ حضرت امام حسین کے مقابلہ میں تو ایک ہی یزید کھڑا ہوا تھا مگر میرے مقابلہ میں ساری دنیا کھڑی ہے۔ حضرت امام حسین یزید کے زہر کے ازالہ کے لئے کھڑے ہوئے اور صداقت کی تائید کرتے ہوئے مارے گئے اس طرح کر بلا کا دردناک واقعہ ختم ہو گیا۔ آپ فرماتے ہیں میں تو ہر منٹ کر بلا میں سے گذرتا ہوں جو گھڑی مجھ پر آتی ہے اپنے ساتھ نئے رفتنے لے کر آتی ہے اور جو ساعت آتی ہے نئی مخالفت لے کر آتی ہے ۔ ”صد حسین است درگر نیبانم کیا میری گریبان میں سو حسین بیٹھا ہے کہ ایک کو مار کر جب مخالفین کی تسلی نہیں ہوتی تو ایک نیا حملہ کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خصوصیت نہ تھی ۔ ہر ماً مور اور نبی جو دنیا میں بھیجا سه جاتا ہے۔ اس کا یہی حالی ہوتا ہے کہ ۔۔ کر بلا نیست سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم اور پھر یہی انبیاء کی جماعتوں کا شروع شروع میں حال ہوتا ہے۔ پس ہماری جماعت کے دوستوں کو اس امر پر یقین رکھنا چاہئے کہ ہم نہ صرف کمزور ہیں، ہماری جماعت نہ صرف تعداد میں بہت قلیل ہے مال کے لحاظ سے بہت غریب ہے، بلکہ ساری دنیا سے لوگ غلطی ہماری مخالف ہے۔ بہت سے لہ سے خیال کر لیتے ہیں کہ جب ہم لوگوں کے خیر خواہ ہیں تو لوگ ہمارے بدخواہ کیونکر ہو سکتے ہیں۔ میں ایسے غلطی خوردہ لوگوں سے سے کہوں کہوں گا گا وہ محمد علی صلى الله علوم سے زیادہ لوگوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے مگر دنیا ان کی بھی دشمن تھی ۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ خدا سے زیادہ لوگوں کے خیر خواہ نبی بھی نہیں ہوتے مگر لوگ خدا کے بھی خلاف ہوتے ہیں۔ غرض تمہاری XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX