خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 76

خطبات محمود 24 سال ۱۹۲۹ء پوچھنے کا کس طرح خیال آیا۔بعد میں خط و کتابت سے معلوم ہوتا ہے اور وہ لکھتے ہیں ہم الفضل یا سن رائز پڑھا کرتے تھے اس سے ہم نے سمجھا کہ ہر معاملہ میں صحیح جواب قادیان سے ہی مل سکتا ہے اس لئے آپ سے پوچھتے ہیں۔تو یہ چیز جو ہم دنیا کے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں۔یعنی حقیقی اسلام وہ اخباروں کے ذریعہ سے پیدا ہو سکتا ہے۔الفضل تو خیر ہے ہی اشاعت و تبلیغ کا اخبار لیکن ان نوجوانوں کے لئے جو عیسائی فتنہ سے متاثر ہو کر اسلام سے بدظن ہوتے جاتے ہیں سن رائز جاری کیا گیا ہے۔اس میں بے شک ہوتے تو عام اسلامی مسائل ہی ہیں لیکن انہیں احمدیت اور حضرت مسیح موعود کے پیش کئے ہوئے پہلو سے ہی بیان کیا جاتا ہے اور اس پہلو کی خوبی کو دیکھ کر آہستہ آہستہ پڑھنے والوں کے دلوں میں یہ خیال جاگزیں ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا میں آکر بہت بڑا کام کیا ہے یہ بھی اگر چہ بالواسطہ نہیں لیکن بلا واسطہ ہمارے مقصد کی اشاعت میں بہت ممد ہے۔اور اگر یہ نہ بھی ہو تو بہر حال مسلمانوں کو فتنہ سے بچانا ہمارا فرض ہے پس ان دونوں اخبارات کی اشاعت کے لئے اگر دوست کمر ہمت باندھ لیں تو بہت ہی مفید نتائج نکل سکتے۔ر ہیں۔چونکہ لوگ عام طور پر خطبات بھول جاتے ہیں اس لئے میں جماعتوں اور ناظروں کو توجہ دلاتا ہوں۔جماعتیں اپنے ہر ایک فرد کو اس کی طرف توجہ دلائیں اور ناظر جماعتوں کے پیچھے پڑا کر ان سے دریافت کریں کہ وہ کس قدر امداد دینے کے لئے تیار ہیں۔ہر جماعت کچھ نہ کچھ پرچے ایجنسی کے ذریعہ فروخت کرنے کا بندوبست کرے۔کوئی سو کوئی پچاس، کوئی میں کوئی دس، کوئی تین، کوئی دواسی طرح ہر جماعت یہ اطلاع دے کہ وہ اتنے نئے خریدار دے گی۔اخبار والوں کو بھی میں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی خریداروں کے لئے سہولتیں بہم پہنچائیں وہ حساب لگانے لگ جاتے ہیں مثلاً یہ کہ دس روپے ہماری لاگت ہے ایجنسی کے ذریعہ وصول ہوتے ہیں سات باقی تین ہو ا گھاٹا اس لئے ایجنسی نہیں دے سکتے۔وہ اتنا نہیں سوچتے اگر اخبار کی اشاعت زیادہ ہو جائے گی تو اسی نسبت سے اس میں اشتہار دینے کے لئے بھی زیادہ لوگ تیار ہونگے اگر آج ایک شخص اشتہار دیتا ہے اور اسے دس درخواستیں آتی ہیں تو گل کو جب خریدار زیادہ ہو جائیں اور اسے پچیس درخواستیں آئیں تو وہ کہے گا مجھے تو ہمیشہ اس پر چہ میں اشتہار دینا چاہئے۔کاروباری معاملات میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ ہر جہت سے فائدہ ہوتا ہے یا نہیں دیکھنا یہ